ٹرمپ کا خط : ایسی بھی کیا مجبوری تھی ؟

ٹرمپ کا خط : ایسی بھی کیا مجبوری تھی ؟


ظلم جتنا بھی طویل ہوجائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انجام کو پہنچ ہی جاتا ہے۔ خون بہتا ہے تو جم جاتا ہے، اندھیری رات کے بعد روشن صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے،سننے میں آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام خط لکھا ہے،اس ”لو لیٹر“کی امریکی کی طرف سے تو تصدیق سامنے نہیں آئی البتہ وزیر اعظم عمران خان نے ہرممکن تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے،یہ انہوں نے کس کی تھپکی پر کہا اس کا بھی تعین ہونا باقی ہے ، 16سالہ قتل و غارت کے بعد افغانستان میں کچھ ہونے جارہا ہے؟ یا امریکی جنگ کو پاکستان منتقل کرنے کی نئی امریکی چال ۔اس کافیصلہ وقت پر چھوڑ دیتے ہیں

یہ خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانوی خبر رساں ادارہ” بی بی سی “کے مطابق افغانستان کی ستر فیصد سرزمین پر طالبان کے کنٹرول کا اعتراف کرچکا ہے، یہ ادارہ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اس وقت افغانستان کے 14 اضلاع پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے جبکہ 263 اضلاع ایسے ہیں جہاں وہ سرگرم ہیں اور کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں، یہ تعداد ماضی میں طالبان کی طاقت کے بارے میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔وہ علاقے جہاں طالبان کی کھلے عام موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کی بات کی گئی ہے، وہاں وہ سرکاری عمارتوں پر اکثر حملے کرتے ہیں جن میں فوجی اڈوں پر مربوط حملوں سے لے کر انفرادی حملے سب شامل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ افغان دارالحکومت کابل میں بھی طالبان گھس کر کارروائیاں کررہے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس 16سالہ جنگ میں فتح حاصل نہیں کرپایا،مفروضے کی بنیاد پر جنگجوﺅں کے ساتھ معصوم انسانوں کی ڈیزی کٹر بموں سے گردنیں کاٹی گئیں،بارود سے تورا بورا کے پہاڑ سیاہ کیے گئے، شادیوں،جنازوں کی تفریق کیے بغیر کارپٹڈ بمباری کی گئی،آج امریکہ انہی دہشتگردوں سے امن کی بات کرنے پر مجبور ہے جن کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا رہا۔

ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ امریکا افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آیا تھا۔ جس کے لیے اس نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اِس کام کے لیے بھینٹ چڑھایا وہیں اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر بھی ضائع کیے۔ اب افغانستان کے انسانوں سے تو شاید اس کو کچھ لینا دینا نہ ہو، مگر اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر کے لیے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے،عام آدمی اسے افغان مسلمانوں کیلئے ٹرمپ کی ہمدردی یا محبت سمجھ رہا تو غلط ہے امریکہ کبھی بھی کسی انسان سے محبت نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے مفادات عزیز ہیں اور اسی سے وہ محبت بھی کرتا ہے۔

امریکہ ایک طرف تو طویل جنگ سے اکتا کر اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ عالمی دباﺅ ہے جو پاکستان ، روس،چین ،ترکی اور ایران کی مشترکہ کوششوں سے امریکہ کو امن کی طرف آنے پر مجبور کررہا ہے،امریکہ آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو رہا ہے،بڑے ممالک اس کی معیشت کو دھچکا دینے کیلئے اپنی باہمی تجارت کو مقامی کرنسیوں پر کررہے ہیں،روس روبل کو فروغ دے رہا ہے تو چین اپنے یوآن کی بالا دستی کیلئے کام کررہا ہے،ترکی اپنا لیرا میدان میں لے آیا ہے، پاکستان چین سے یوآن پر تجارت کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے،اب وہ وقت آچکا ہے کہ برسوں سے جلتے ہوئے پہاڑوں، دہکتے ہوئے ریگزاروں میں محبت امن کے پھول کھلائے جائیں،امن کی پیاسی سرزمین کو پیار سے سیراب کیا جائے، جنگ کے ترانوں کو محبت کے سریلے نغموں سے مات دی جائے۔ اگرچہ ماضی میں یہ تجربہ ناکام ہوا ہے مگر اِس بار امید اور خواہش تو یہی ہے کہ افغانستان میں15 سالہ آگ اور خون کے کھیل کے بعد محبت امن وآشتی کے پھول کھلیں گے۔