ملک میں کھاد کا بحران پیدا ہونے خدشہ


لاہور(24نیوز) ملک میں کھاد کا بحران پیدا ہونے خدشہ ہے، حکومت فرٹیلائزر کمپنیوں کو مہنگی آر ایل این جی کے استعمال پر مجبور کرنے لگی، پنجاب میں دو فیکٹریوں نے کھاد کی پروڈکشن بند کر دی۔

تفصیلات کے مطابق کھاد تیار کرنے والی فیکٹریوں پر حکومت کا آر ایل این جی استعمال کرنے کیلئے دباؤ، فیکٹر مالکان نے مہنگی گیس کے استعمال سے معذرت کرلی۔دستاویز کے مطابق محکمہ سوئی گیس کی جانب سے فیکٹر مالکان کو اوگرا کی اجازت کے بغیر نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔گیس کی قیمت چار سو اسی فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی ہے۔

صورتحال کے پیش نظر پنجاب میں دو بڑی کھاد کی فیکٹریوں میانوالی میں ایگری ٹیک اور لاہور میں داؤد ہرکلیز نے کھاد کی پیداوار بند کر دی، فیکٹریاں بند ہونے سے سیکڑوں مزدور اور ملازمین پریشانی میں مبتلا ہیں۔

کھاد فیکٹریوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ 1100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں ساڑھے 1300روپے فی کھاد کی بوری کی پیداوار ناممکن ہے، سارے معاملے پر اوگرا نے بھی آنکھیں بند کر رکھیں ہیں۔

اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر دوسرے کارخانے بھی بند ہوئے تو ملک میں کھاد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔