دہشت گردی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے،امریکی قومی سلامتی کے مشیرکی ہرزہ سرائی

دہشت گردی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے،امریکی قومی سلامتی کے مشیرکی ہرزہ سرائی


واشنگٹن(24نیوز)امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ریٹائرڈ ایچ آر مک ماسٹر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دہشت گردی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دے دیا ہے دوسری طرف امریکی ایوان نمائندگان کی رکن ایڈی برنیس جانسن نے امریکا کے عالمی سطح پر تنہا ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، امریکی مشیر مک ماسٹر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، پاکستان سے کیے جانے والے مطالبات محض الزامات کا تبادلہ نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان پر یہ واضح کرنا ہے کہ اب دونوں ملکوں کے تعلقات مزید تضادات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ایچ آر مک ماسٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بعض دہشت گرد گروہوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک جزو کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔
دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی رکن ایڈی برنیس جانسن بھی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے خلاف بول پڑیں، کہتی ہیں کہ امریکی انتظامیہ کارویہ سمجھ سے باہر ہے، انہوں نے کہا کہ کانگریس میں بھی امریکا کے پاکستان سمیت دنیا کےساتھ خراب تعلقات پر تشویش ہے،امریکا اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی اشد ضرورت ہے،ایڈی برینس جانسن کا کہنا تھا کہ زیادہ ترلوگ دونوں ممالک کےدرمیان مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کیخلاف بیان سے دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہیں،دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے پاکستان کو دی جانیوالی امداد روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امریکی بیوقوفی تھی جو پاکستان کو 33ارب ڈالر کی امداد دی گئی۔

ویڈیو دیکھیں: