امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟


تہران(24نیوز) ایران میں رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعدکسی شخصیت کوطاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے، وہ ایران میں ہیرو اور امریکہ کے لیے ولن تھے۔

امریکا نے اپنے لئے خوف کی علامت ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹا دیا۔ گیارہ مارچ 1957 کو ایک کسان کے گھر پیدا ہونے والے 62 سالہ میجر جنرل قاسم سلیمانی نے 13سال کی عمر میں ایک مزدور کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔  1979 میں شاہ ایران کا تختہ الٹے جانے کے بعد پاسداران انقلاب بنی تو قاسم سلیمانی نے اس میں شمولیت اختیار کرلی، 1980 کی ایران، عراق جنگ میں قاسم سلیمانی نے اہم کردار ادا کیا جس کے بعد انہیں 1998 میں القدس فورس کا سربراہ بنا دیا گیا۔

جنرل قاسم سلیمانی ایران میں علی خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور شخصیت تھے اور ان کی حیثیت امریکا میں نائب صدر جیسی تھی،گزشتہ چند سال کے دوران جنرل قاسم سلیمانی کا ایران کے خارجہ امور میں کردار مزید ابھر کر سامنے آیا تھا۔

عراق اور شام میں جاری لڑائی میں اہم کردار ادا کرنے والے قاسم سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک موجود شاخ کی سربراہی کرتے تھے اور اکثر عراق کا دورہ کرتے رہتے تھے، شام میں داعش کیخلاف کارروائی بھی ان کی ذمہ داری تھی۔

امریکا کو شبہ تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی فوج پر ہونے والے حملوں کے پیچھے جنرل قاسم سلیمانی کا دماغ تھا، ان پر امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش کا بھی الزام تھا، قاسم سلیمانی گزشتہ 2 دہائیوں میں مغرب، اسرائیل اور عرب ایجنسیوں کی جانب سے ہونے والے متعدد حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے تھے۔

ایران کے روحانی سربراہ آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ سال جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کےاہم ترین ایوارڈ ذوالفقار میڈل سے بھی نواز تھا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔