برج الخلیفہ کے بارے دلچسپ معلومات

برج الخلیفہ کے بارے دلچسپ معلومات


  دبئی ( 24نیوز ) برج الخلیفہ دبئی کی پہچان جس کی بلندی آسمان کو چھو رہی ہے،اس کے بارے دلچسپ معلومات کو جان کر یقیناً آپ کے دل میں وہاں جانے کی حسرت پیدا ہوگی،دیئی کی شان یہ عمارت دنیا کی سب سے بلندعمارت ہے،آج اس کی تعمیر کو 10سال مکمل ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کی بلند ترین یہ عمارت سیاحوں کو اپنی طرف مبذول کئے ہوئے ہے، دبئی میں ببنے والی اس عمارت کو آج کے روز یعنی4 جنوری2010 کو عوام کے لئے کھولا گیا تھا،لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والی عمارت کو 10 سال مکمل ہوچکے ہیں، برج الخلیفہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے دو گنا جب کہ پیرس کے ائفل ٹاور سے تین گنا اونچی ہے۔

اس عمارت کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسعمارت پُرتعیش ارمانی ہوٹل ، رہائشی یونٹس اور ریسٹورینٹس بنائے گئے ہیں اور اس بلند ترین عمارت کی 148ویں منزل سے پورے دبئی کا نظارا کیا جاسکتا ہے۔

بر ج الخلیفہ کو تعمیر کرنے میں6 سال کا عرصہ لگا جبکہ کی مجموعی طور پر 2 کروڑ 20 لاکھ گھنٹے میں تیار کیا گیا،عمارت کو بنانے کے لیے 3 لاکھ 30 ہزار کیوبک میٹر کنکریٹ، 39 ہزار ٹن اسٹیل، 10 لاکھ 3 ہزار اسکوائر میٹر شیشے اور 15 ہزار 500 اسکوائر میٹر ایمبوسڈ اسٹین لیس اسٹیل کا استعمال ہوا ہے،  برج الخلیفہ میں لگے ایلیوٹر یعنی لفٹ کی رفتار 10 میٹر فی سیکنڈ ہے، یعنی اگر کوئی شخص ایلیویٹر کے ذریعے گراؤنڈ فلور سے 124 ویں فلور پر جائے گا تو اسے یہاں تک جانے میں صرف ایک منٹ لگے گا۔

علاوہ ازیں اس کی تعمیر میں استعمال کیا جانے والے کنکریٹ کا وزن ایک لاکھ ہاتھیوں کے وزن کے برابر ہے،  برج الخلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت کے ساتھ ساتھ دنیا کی تیز ترین رفتار ایلویٹر جیسے متعدد  اعزاز بھی حاصل ہیں، ہالی و وڈ کی مشہور فلموں کی شوٹنگ بھی یہاں ہوچکی ہے،ان میں'مشن امپاسیبل سمیت  4  دیگر فلمیں بھی شامل ہیں۔

معروف ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز نے بھی اسی عمارت میں اسٹنٹس کیے تھے،  برج الخلیفہ کے 125ویں فلور پر دنیا کا سب سے اونچا پوسٹ آفس ہے۔