عصمتیں لٹ رہی ہیں،ارباب اختیار کو ہوش نہیں

عصمتیں لٹ رہی ہیں،ارباب اختیار کو ہوش نہیں


24نیوز : پھالیاں، مظفرگڑھ اور تونسہ شریف میں لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا گیا، لیکن ارباب اختیار کو ہوش نہیں آرہا۔

تفصیلات کے مطابق قصور میں ہونے والے ہولناک واقعہ پر آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے جب ننھی معصوم زینب کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔لیکن اس واقعہ کے بعد حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے۔کوئی ایسا اقدام منظر عام پر ابھی تک نہیں آیا جس سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جا سکے۔دن بہ دن ان واقعات میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

  پھالیاں میں ایسا ہی واقعہ پھر پیش آیا جہاں چچا بھتیجے نے نویں جماعت کی طالبہ کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ حالت غیرہونے پرسڑک کنارے پھینک کرفرار ہوگئے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیئے۔

ضرور پڑھیں:انکشاف 16 جون 2019

دوسری جانب تونسہ شریف میں مدرسے جانے والی 9 سالہ بچی کوزیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ بچی کو بے ہوشی کی حالت میں ٹراما سنٹر تونسہ منتقل کیا۔ ہوش میں آنے کے بعد بچی نے سارا ماجرا بیان کردیا۔ ڈی ایس پی تونسہ کی ہدایت پرمقدمہ درج کرلیا۔

علاوہ ازیں مظفرگڑھ میں 19 سالہ لڑکی کو مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعدقتل کردیاگیا۔ پولیس نے بتایا مقتولہ کوتشویشناک حالت میں دیہی مرکزصحت رنگپورلایا گیا تھا۔ پولیس کےمطابق واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ تاہم لاڑکانہ میں صائمہ قتل کیس میں ملوث دونوں مرکزی ملزموں کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کردیا گیا۔ ننھی صائمہ کو ایک ہفتہ قبل اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بناکرقتل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایف آئی اےنے بچوں سے زیادتی کے بعد ویڈیوز بنانےوالےملزم کو سرگودھا سےگرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ملزم نے سرگودھا میں25 سے زائد بچوں کیساتھ زیادتی کی۔ ملزم سےبچوں کی تصاویر اورفلمیں بھی برآمد کرلی گئیں۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق پنجاب میں بچوں کے قتل کی وارداتیں نہ رک سکیں۔ گجرات میں تھانہ کنجاہ کے علاقہ جسوکی میں سات سالہ حمزہ کومبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ ملزمان نے قتل کے بعد حمزہ کی لاش کھیتوں میں پھینک دی۔ پولیس کے مطابق حمزہ گھر سے اپنی دادی کے پیچھے کھیتوں میں گیا تھا۔ جہاں اُس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے والدہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اب شہر قائد کےبچے اور  بچیاں بھی محفوظ نہیں رہے۔ کراچی کے علاقہ سیکٹر الیون ای میں نامعلوم افراد نےگھر میں گھس کر 19  سالہ لڑکی سے زیادتی کی اور تیز دھار آلے سے لڑکی کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود لڑکی کے چھوٹے بھائی کو بھی زخمی کردیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ لڑکی کو قتل سے پہلےمبینہ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

 ملزم جاتے جاتے لڑکی اور اس کے بھائی کا موبائل فون بھی لے گئے۔پولیس نے مقتولہ کے والد ، پڑوسی ، مالک مکان سمیت 8 افراد کو حراست میں لیکر تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ مالک مکان اور پڑوسیوں کا کہنا تھا کے فیملی کو 12 سال سے جانتے تھے۔ جب مقتول لڑکی کی والدہ نے چیخ و پکار کی تو بھاگ کر پہنچے۔ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

 سوچنا تو یہ ہے کہ آکر کب تک ہمارے اس اسلامی معاشرے میں بچے اور بچیاں وحشت کا نشانہ  بنتے رہیں گئے۔ کیا حکمرانوں کا کوئی کردار نہیں ہے اس میں ۔ کیا ووٹ اس لیے دیے جاتے ہیں۔منتخب ہونے والے نمائندے کا فرض صرف اور صرف ووٹ لینا تھا۔ جس معاشرے میں عزت بچانا مشکل ہو جائے اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔

حکومت کے بھروسے اگر رہیں گے تو جان و مال محفوظ رہیں اس کا امکان نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے۔اس لیے والدین کو چاہیے کے اپنے بچوں کو  ایسی تربیت دیں کہ بچہ آپ کو خود ہر بات بتانے کا اہل ہو بنا کسی ہچکچاہٹ سے اپنے والدین کو بتا سکے کہ اس کے ساتھ کیا صحیح ہوا اور کیا اس کے لیے غلط ہے۔ یہ زمداری اب والدین کو خود اٹھانی ہو گی۔