اپنی جان خطرے میں ڈال کردوسروں کی جان بچانے کا نام ’’فائرفائٹنگ‘‘

اپنی جان خطرے میں ڈال کردوسروں کی جان بچانے کا نام ’’فائرفائٹنگ‘‘


کراچی(24 نیوز) فائر فائٹرز کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے، اپنی جان خطرے میں ڈال کردوسروں کی جان بچانے کا نام فائرفائٹنگ .

تفصیلات کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی دن بہ دن بنا ماسٹر پلان کے پھیلتا گیا مگر بے ہنگم تعمیرات کی اجازت دینے والے بھول گئے اگر حادثات ہونگے تو کیا ہوگا۔کراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کا حال ایسا ہی ہے جیسا کراچی کا یعنی کوئی پلان نہیں۔ بین القوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر 1 ماڈل فائر اسٹیشن اور چار گاڑیاں ہونا ضروری ہیں۔ اس حساب سے دو کروڑ کی آبادی والے کراچی کو 200 فائر اسٹیشن اور 28800 فائر فائٹرز درکار ہیں مگر کراچی میں صرف 23 فائر اسٹیشنز موجود ہیں۔

شہر میں آگ لگ جائے تو ایک اسنارکل اور کم و بیش بیس گاڑیاں امدادی کاموں میں لگ جاتی ہیں۔ شہر میں ایک ہی وقت میں زیادہ مقامات پر آگ لگ جائے تو فائر بریگیڈ پھر شاید ترجیحات پر چلے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 1.72بلین کا پیکج منظور ہونے سے فائر فائٹرز کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ کو بہتر بنانے کے لیے نئے ڈرائیورز اور فائر فائٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ کراچی کے فائر فائٹرز وہ ہیرو ہیں جو اب تک ہنگامی صورتحال میں لاجواب کام کررہے ہیں۔ اگر انہیں سہولیات سے لیس کردیا جائے تو شہر کے لئے بہتر ہوگا۔

دوسری جانب لاہور میں ریسکیو 1122ٹریننگ سینٹر سالہا سال سے فائر فائٹرز کی کھیپ تیار کرنے میں مشغول ہے۔یہ فائر فائٹرز بہت مشکل ٹریننگ کے عمل سے گزر کر لاکھوں جانوں کو بچانے کے قابل ہوتے ہیں۔