حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی انتقال کر گئے


کابل (24نیوز) حقانی نیٹ ورک کے بانی افغان کمانڈو جلال الدین حقانی انتقال کر گئے ، جلال الدین حقانی سرد جنگ سے لے کر افغانستان میں امریکی حملے اور اسکے بعد آج تک خبروں کا حصہ بنے رہے ہیں۔
جلال الدین حقانی کو افغانستان میں خون ریز ترین حملوں کے لیے قصور وار قرار دیا جاتا ہے،  ان کی عمر ستر سے زائد تھی ،  حالیہ چند برسوں سے یہ سننے میں آ رہا ہے کہ اُن کی صحت بہت خراب تھی ، جس کے باعث انہوں نے اپنی طالبان کی حامی تنظیم کی قیادت بھی اپنے بیٹے سراج الدین حقانی کو سونپ دی تھی، گزشتہ برس بھی انکے انتقال کی خبر میڈیا کی شہہ سرخیوں کا حصہ بنتی رہی مگر حقانی خاندان نے اسکی باضابطہ تردید کی تھی ۔

آج تحریک طالبان کے ترجمان مولانا ذبیح اللہ نے اپنی ٹویٹ میں انکی موت کا باضابطہ اعلان کیا ہے ، جلال الدین کی سرگرمیوں کی تشہیر سن 1980ء میں ہونا شروع ہوئی، جب وہ اور ان کے ساتھی امریکا کی مرکزی انٹیلی جینس ایجنسی اور سعودی عرب کی مدد سے افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف لڑ رہے تھے۔
جلال الدین حقانی پشتون تھے اور ان کا تعلق افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا کے زادران قبیلے سے تھا، ان پر الزام تھا کہ افغانستان میں انہی کے نیٹ وورک نے خودکش حملوں کو متعارف کروایا، ماضی میں افغانستان میں قائم بھارتی سفارت خانے کے علاوہ افغان صدر پر متعدد حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی اس نیٹ ورک کا نام لیا جاتا رہا ہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔