نسلی تعصب کے مخالف آنجہانی نیلسن منڈیلا کی چوتھی برسی آج منائی جا رہی ہے

نسلی تعصب کے مخالف آنجہانی نیلسن منڈیلا کی چوتھی برسی آج منائی جا رہی ہے


کیپ ٹاؤن (24نیوز) اگر انسان نفرت سیکھ سکتے ہیں تو انہیں محبت بھی سکھائی جا سکتی ہے ، نسلی تعصب کے مخالف ، عظیم انقلابی ، انسانیت دوست آنجہانی سیاستدان نیلسن منڈیلا کی آج چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیلسن منڈیلا 1918 میں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوءے ، انکے والد تھمیبو شاہی خاندان کے مشیر تھے، اس وقت نیلسن منڈیلا کی عمر نو برس تھی اور شاہی خاندان نے انہیں سرپرستی میں لے لیا ، نیلسن منڈیلا نے 1943 میں افریقن نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔

منڈیلا نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا ،1956 میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا، یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے،نسل پرست حکومت کے خلاف ملک میں تناؤ مزید بڑھ گیا اور 1960 میں یہ اُس وقت انتہا کو پہنچ گیا جب پولیس نے 69 سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا،،،یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں پُرامن مزاحمت کا خاتمہ ثابت ہوا، منڈیلا کو گرفتار کر لیا گیا۔

انیس سو چونسٹھ کے موسمِ سرما میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی، قید کے دوران انہیں والدہ اور بیٹے کی اموات پر انکی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت بھی نہ دی گءی ، مگر انکی تحریک جاری رہی ،انیس سو اسی میں اولیور تیمبو نے منڈیلا کو رہا کروانے کے لیے بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، عالمی پابندیاں مزید سخت ہونے کے بعد انیس سو نوے میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک نے منڈیلا کو رہا کر دیا۔

دسمبر 1993 میں نیلسن منڈیلا اور ڈی کلارک کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا،اس کے پانچ ماہ بعد جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری الیکشن ہوئے، جس میں تمام نسلوں کے افراد نے ووٹ ڈالے۔