سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ دار پنجاب حکومت تھی: جسٹس باقر نجفی رپورٹ

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ دار پنجاب حکومت تھی: جسٹس باقر نجفی رپورٹ


 لاہور (24 نیوز): جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی انکوائری رپورٹ میں پنجاب حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف نے پولیس کو موقع سے ہٹانے سے متعلق جھوٹ بولا جبکہ رانا ثناءاللہ کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس منہاج القرآن کے باہر خون ریزی کا سبب بنا۔

 

جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ دار پنجاب حکومت تھی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پولیس کو موقع سے ہٹانے سے متعلق جھوٹ بولا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی سچائی جاننے کی نیت ٹھیک نہیں تھی، شہباز شریف سمیت سب نے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کی، پولیس افسران نے دانستہ طور پر ٹربیونل سے معلومات چھپائیں جو سچائی کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

 

رانا ثناءاللہ کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس منہاج القرآن کے باہر خون ریزی کا سبب بنا، سولہ جون دوہزار چودہ کو جب وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی زیرصدارت اہم اجلاس میں منہاج القرآن پر چڑھائی کا فیصلہ کیا گیا، کمشنر لاہور نے اجلاس میں منہاج القرآن کے باہر غیر قانونی رکاوٹوں کو تجاوزات قرار دیا، توقیر شاہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے نمائندے کے طور پر رکاوٹیں ہٹانے کے فیصلے کی منظوری بھی دے ڈالی۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی او لاہور کے مطابق ٹی ایم اے گلبرگ کی انتظامیہ 16 جون کی آدھی رات کو منہاج القرآن کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے گئے تو منہاج القرآن کے کارکنوں نے مزاحمت کی اور پولیس پر پتھر برسائے، پولیس نے ردعمل میں مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے موقع پر متعدد افراد زخمی ہو گئے جو ظاہر کرتا ہے کہ عوامی تحریک کے غیر مسلح مظاہرین پر فائرنگ کا رد عمل پولیس کا غیر سنجیدہ اقدام تھا۔

 

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کمیشن کے سامنے حلف نامہ دیا کہ انہوں نے پولیس کو منہاج القرآن کے باہر سے ہٹنے کا حکم دیا تھا، لیکن رانا ثناءاللہ، ہوم سیکرٹری پنجاب سمیت کسی پولیس افسر کا بیان اور حلف نامہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دعوے کو سچ ثابت نہیں کرتا۔

 

کمیشن کو دستیاب ریکارڈ کے مطابق شہباز شریف نے پولیس کو پیچھے ہٹنے کا حکم ہی نہیں دیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، توقیر شاہ سمیت تمام حکومتی افسران اور پولیس افسران ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے، یہ بھی حقیقت ہے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس منہاج القران کے باہر خون ریزی کا سبب بنا، پولیس نے جس انداز سے شہریوں پر براہ راست گولیاں چلائیں اور شہریوں کے خلاف آپریشن کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس وہی کرنے آئی تھی جس کا اسے ٹاسک دیا گیا تھا۔

 

جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ میں حتمی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، توقیر شاہ سمیت سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق پنجاب کے تمام حکام کو معصوم نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سپیشل برانچ پنجاب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ طاہر القادری اور شجاعت حسین کی لندن میں ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ حکومت مخالف اتحاد بنایا جائے اور منہاج القرآن کے کارکنان طاہر القادری کا 23 جون کو استقبال کرنے کےلئے تیاریاں کر رہے تھے، سپیشل برانچ کی یہ رپورٹ وزیر قانون رانا ثناءاللہ، سابق چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم چیمہ، سابق ہوم سیکرٹری اعظم سلیمان خان، شہباز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ اور شہباز شریف کے پرنسپل سٹاف افسر نوید حیدر شیرازی کو بھی بھجوائی گئی۔