شاہ زیب قتل کیس، سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

شاہ زیب قتل کیس، سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا


کراچی(24نیوز) سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزموں کی اپیلوں پر سماعت کی، سول سوسائٹی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت شاہ رخ جتوئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے سول سوسائٹی کی اپیل کو 184/3میں تبدیل کیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کومکمل انصاف کیلئے اقدامات کااختیار ہے، ہمارے فیصلے میں غلطی ہے تونشاندہی کریں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ غلطی کی اصلاح کرناہمارافرض ہے،عدالت عظمیٰ اپنے احکامات پرعمل درآمد کا کہہ سکتی ہے۔ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی احکامات پرعمل ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے کہ دیا تھا مقدمہ اے ٹی سی میں چلایاجائے، کوئی بھی دوسری عدالت ہمارے فیصلے پرنظرثانی نہیں کرسکتی، ہائی کورٹ نے ہمارے احکامات کی غلط تشریح کی، اگرآپ معصوم ہیں توعدالت سے رہا ہو جائیں گے۔

اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی آبزرویشن کے بعد مجھے شفاف ٹرائل کاحق نہیں ملے گا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت کسی بھی فیصلے کاجائزہ لے سکتی ہے، کیا ہائیکورٹ کے ججز ہمارے فیصلے کےخلاف جاسکتے ہیں؟۔

سپریم کورٹ نے ملزم کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد شاہ رخ جتوئی اور غلام مرتضیٰ لاشاری کی نظرثانی کی درخواست مسترد کردی۔