احد چیمہ کی سیکڑوں کنال زرعی اراضی کا انکشاف، 24نیوز نے کھوج لگا لیا


لاہور (24 نیوز) سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی احد چیمہ سے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔ احد چیمہ اپنے دوستوں کو بھی نوازتے رہے۔ ان کی سیکڑوں کنال زرعی اراضی کا ٹوینٹی فور نیوز نے پتہ چلالیا۔ احدچیمہ نے طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ بھی مبینہ طور پر مہنگے داموں خریدے۔

24 نیوز کے مطابق احدچیمہ کی اقربا پروری کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔ احد چیمہ نے اپنے دوستوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات پر پاکستان اسٹیٹ آئل میں بھرتی کرایا۔ احد چیمہ نے شہریار عمر کو پی ایس او میں جنرل منیجر مارکیٹنگ اور طارق سعید کو جی ایم لیگل تعینات کرایا۔ فرحان پاشا کو جی ایم پروکیورمنٹ، قاسم ظہیر کو جی ایم کیمیکل تعینات کیا گیا۔ قاسم ظہیر کو بعد میں نجی کمپنی میں کرپشن کے الزام پر برطرف کر دیا گیا۔

متعلقہ خبر: سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کےمزیدکارنامے منظر عام پر آگئے 

24نیوز نے احدچیمہ کی زرعی اراضی کا سراغ لگا لیا۔ حافظ آباد کے نواحی علاقہ بیک احمد یار میں 247 کنال 19 مرلے احد چیمہ کے نام ہیں۔  439 کنال 17 مرلے احد چیمہ کی ہمشیرہ سعدیہ منصور کے نام پر ہیں۔

احد چیمہ نے یہ رقبہ 2کروڑ 46 لاکھ 99 ہزار روپے میں خریدا۔ زرعی رقبہ کے لیے وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے خصوصی طور پر سڑک تعمیر کرائی۔  

نیب نے احد چیمہ سے بطور سیکرٹری ایچ ای سی لیپ ٹاپ اسکیم کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ احد چیمہ پر لیپ ٹاپ مہنگے خریدنے کا الزام ہے۔ احد چیمہ نے بیس ہزار والا لیپ ٹاپ مبینہ طورپر اڑتیس ہزار روپے میں خریدا۔

سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور شاہد شفیق کو ریمانڈ ختم ہونے پر احتساب عدالت پیش کیا گیا جہاں انہیں مزید 15 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احد چیمہ نے اپنے دوستوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات کے پر پاکستان اسٹیٹ آئل میں بھرتی کرایا۔ جب نیب نے چھاپہ مارا تو اس وقت احد چیمہ لاہور سے پی ایس او بورڈ کے اجلاس میں اسکائپ پر شریک تھے۔ احد چیمہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ آف منیجمنٹ کے رکن تھے۔

یاد رہئے کہ نیب لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں بدعنوانی کے الزام میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو گرفتار کیا تھا۔ نیب کی ٹیم نے احد چیمہ کو ان کے لاہور ایم ایم عالم روڈ پر موجود دفتر سے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت ان پر آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے ٹھیکے من پسند کمپنیوں کو دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

قبل ازیں احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی میں کھلبلی دیکھنے میں آئی۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں ڈی ایم جی افسران نے احد چیمہ کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بارہ سو پی ایم ایس افسران نے ڈی ایم جی گروپ کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈی ایم جی افسران نے غیراعلانیہ ہڑتال کیے رکھی، جس سے سول سیکرٹریٹ اور دفاتر میں کام نہ ہوسکا۔ ڈی ایم جی افسران پورا دن دربار ہال اور مختلف دفاتر میں احد خان چیمہ کے حوالے سے اجلاس کرتے رہے، کئی دوسرے اضلاع سے بھی ڈی ایم جی افسران اظہار یکجہتی کے لیے لاہور آئے۔

یہ بھی پڑھئے:احد چیمہ کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے اہم ڈیٹا برآمد

سول سیکرٹریٹ میں بھی اہم اجلاس کیا گیا جس میں تمام محکموں کے سیکرٹریز اور ڈویژنل کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ احد خان چیمہ کو باعزت بری کیا جائے۔ اجلاس میں احد چیمہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قرارداد بھی پاس کی گئی تھی۔ احد چیمہ کی گرفتاری کے معاملہ پر لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیر صدارت کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

یہ ویڈیو دیکھنا بھی مت بھولئے:

ساتھ ہی پی ایم ایس افسران نے پنجاب میں ڈی ایم جی افسران کے خلاف اعلان بغاوت بھی کر دیا۔ پی ایم ایس ایسوسی ایشن نے چیف سیکرٹری کو کھلا خط لکھا۔ جس میں پی ایم ایس ایسوسی ایشن کے صدر نے احد خان چیمہ کے معاملہ پر ڈی ایم جی افسران سے اعلان لا تعلقی کیا۔

کرپشن کے الزامات میں گرفتار ہونے والے احد چیمہ کو بچانے کے لیے حکومت پنجاب بھی میدان میں آئی اور سر توڑ کوششیں کیں۔ ترجمان ملک احمد خان نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ احد چیمہ کو پنجاب میں کامیاب منصوبوں کی سزا دی جارہی ہے۔ جب کہ ساتھ ہی افسر شاہی نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ سول سرونٹس کو عدلیہ کی طرز پر آئینی تحفظ دیا جائے۔ سول سرونٹس کی ایک سیٹ پر کم از کم دو سال تعیناتی ہونی چاہیے۔ سی ایس ایس، پی ایم ایس اور پی سی ایس افسروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ سول سرونٹس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لیے ٹربیونل ہونا چاہیے۔ کسی افسر پر کیس بنے تو حکومت قانونی معاونت فراہم کرے۔ وزیراعلیٰ آفس کے احکامات چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے دفتر کے ذریعہ بھجوائے جائیں۔ کسی افسر کی تضحیک کی صورت میں معافی مانگے جانے تک کام نہیں کیا جائے گا۔

پڑھنا نہ بھولئے: احد چیمہ کی گرفتاری، پی ایم ایس افسران کی ڈی ایم جی کیخلاف بغاوت

ایک طرف یہ سب چل رہا تھا تو دوسری جانب پنجاب حکومت کی کابینہ اجلاس پر اجلاس کر رہی تھی۔ اس وقت کی بیوروکریسی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں احد چیمہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور کہا گیا کہ یہ گرفتاری بلاجواز اور غیر قانونی ہے۔ نیب نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ احد چیمہ فرض شناس، محنتی اور دیانت دارافسر ہیں اور صوبہ میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری اور شفافیت سے تکمیل پر دنیا ان کی معترف ہے۔ پنجاب کابینہ کے اس اجلاس میں احد چیمہ اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن اخلاقی اور قانونی مدد مہیا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر محمودالرشید کا کہنا تھا کہ احد چیمہ کو راتوں رات ترقی سے نواز دیا گیا۔ ابھی درجنوں احد چیمہ موجود ہیں۔ جبکہ احد چیمہ نے اربوں روپے سے ان کی تجوریاں بھریں اس کو سروس رولز کے مطابق فارغ کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا کرنے کی بجائے اسے ترقی دی گئی۔

متلقہ خبر: احد چیمہ کو معطل کرنے کی بجائے ترقی دیدی گئی، محمود الرشید

نیب نے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہوئے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے بہت سا ڈیٹا بھی حاصل کیا۔ ان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے ہزاروں گیگا بائٹ ڈیٹا کا حصول ہوا جس میں اعلیٰ شخصیت کے ساتھ گفتگو کا ریکارڈ بھی ملا۔

مزید جاننے کے لیے ویڈیو دیکھیں: