یمن میں جنگ کے باعث بھوک اور موت کا رقص

یمن میں جنگ کے باعث بھوک اور موت کا رقص


24نیوز: یمن میں جنگ اور غذائی قلت سے حاملہ خواتین کمزور اور لاغر ہونے لگیں۔ خواتین کو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے اناج کے چند دانے میسر نہیں، یمن میں بھوک بچوں اور خواتین کو موت کی وادی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یمن میں ہر طرف بھوک اور قحط کا رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خواتین جو چلتے پھرتے انسانی ڈھانچے دکھائی دیتی ہیں۔عدن کے الصدقہ اسپتال میں ہر طرف شدید غذائی قلت کا شکار یہ حاملہ خواتین ہیں۔اور چند تصاویر کچھ ایسے بچوں جو فاقہ مستی کا سراپا نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں میوزیکل شو کا اہتمام، پاکستانی اداکارہ حریم فاروق کی پرفارمنس
 
سیاہ عبائیوں میں اپنے ڈھانچے چھپائے حاملہ خواتین اکثر اوقات کھانا اس لئے نہیں کھاتیں تا کہ وہ اپنے پہلے بچوں کا پیٹ بھر سکیں۔اعداد و شمار کے مطابق تیس لاکھ خواتین اور چار لاکھ بچے انتہائی تشویشناک حالت میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یمن میں اس وقت ایک تہائی آبادی کی زندگی کا دارومدار امداد کی صورت میں ملنی والی خوراک پر ہے۔امداد نہ ملنے کی صورت انہیں بھوکا رہنا پڑتا ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:علی گڑھ یونیورسٹی سے قائداعظم کی تصویر غائب، بھارتی طلباء کا احتجاج، 30 زخمی
 
غذائی قلت کا شکار بچوں کے پائوں اور ٹانگیں سوج جاتی ہیں۔ ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق گزشتہ سال کم از کم پچاس ہزار بچے بھوک اور بیماری سے زندگی کی بازی ہار گئے۔