افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں نکل سکتا:وزیر اعظم


اسلام آباد( 24نیوز ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یمن میں امن کے حوالے سے سعودی عرب اور ایران سے بات کی،یمن مسئلے کے حل کے لیے ایران نے بھی ہماری حمایت کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کے مقدس مقامات پر انہیں زیارت کے لیے آنے دینا چاہیے،ہم امید رکھتے ہیں کرتار پور پر بھارت بھی مثبت ردعمل دے گا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی ٹیم نے مشکل حالات میں اچھی پرفارمنس دی، پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے مگر مخالفین پاکستان کے حالات خراب بتاتے ہیں، مجھے خوشی ہوئی کہ پہلی بار امریکا بھی تحریک انصاف کا موقف تسلیم کرتا ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں نکل سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیشہ سمجھتا تھا کہ ڈو مور کے بجائے افغان مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے، ملک کے ساتھ ایسا برتاﺅ کیا گیا کہ ہمیں کسی کی جنگ لڑنے کے لیے امداد دی جارہی ہے،سوزوکی نے ساڑھے چار سو ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ کا معاہدہ کیا ہے،ایگزن نے دو سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا، جبکہ فونٹن کی جانب سے پاکستان میں کار تیار کی جائے گی اور ٹیکنالوجی سکول کھولے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی عملداری کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ گزشتہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی کرےگی، گلگت بلتستان میں اصلاحات اور عبوری صوبے کا درجہ دیئے جانے کا امکان ہے اور وزیر برائے امور کشمیر اور وزیر قانون اس معاملے پر بریفنگ دیں گے۔