قصور واقعے کا اٹک میں ری پلے،پولیس مکمل طور پر ناکام

قصور واقعے کا اٹک میں ری پلے،پولیس مکمل طور پر ناکام


اٹک(24نیوز)پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے روزانہ ایسی خبریں ملتی ہیں کہ شہری اپنے پیاروں کو انصاف دلانے کیلئے سراپا احتجاج نظر آتے ہیں،یہ صرف پاکستان کے ایک صوبے یا شہر میں ہی نہیں ہوتا بلکہ تمام جگہوں پر ایسا دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ پنجاب اور خیبر پی کے کے سرحدی شہر اٹک میں پیش آیا ہے جہاں لوگ قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے نظر آئے،یہ تازہ واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کو کئی دن گذر چکے ہیں،ہوا یوں کہ تحصیل حضرو کے گاوں میں چند روز قبل 13 سالہ روح اللہ کو قتل کر دیا گیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے پر تشدد کی تصدیق ہوئی،لواحقین کا دعوی ٰ ہے کہ بچے پر جنسی تشدد بھی ہوا ، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کے جسم پر تشدد کے نشان تو ہیں ،لیکن ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جنسی تشدد ثابت نہیں ہوسکا، ڈی پی او اٹک عبادت نثار نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے نمونے لیبارٹری بھجوا ئے ہیں، رپورٹ آنے پر صورتحال واضح ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،4دہشتگرد ہلاک،ایک گرفتار

اٹک میں تیرا سالہ روح اللہ کے قتل کو کئی دن گزر گئے، لیکن قاتل آج تک گرفتار نہ ہوسکے، ڈی پی او اٹک نے روح اللہ کے والدین سے تعزیت کی، اور ملزموں جلد گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے،سیاسی اور سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

سیاسی اور سماجی شخصیات نے یوں تو روح اللہ کے والدین سے ہمدردی کا اظہار کرکے سیاسی دکانداری کر رہے ہیں،پنجاب کے مختلف علاقوں میں بچوں پر تشدد، اغوا اور قتل حکومت پنجاب آئی جی پنجاب اور پولیس کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔