حکومت نے عوام کو ایک اور دکھ دینے کا پروگرام بنالیا

حکومت نے عوام کو ایک اور دکھ دینے کا پروگرام بنالیا


کراچی(24نیوز)جب سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت نے ملک کا کنٹرول سنبھالا ہے عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا،ہرمہینے دوبار پٹرول قیمتوں میں اضافہ تو معمول بن چکاہے اور اس وجہ سے شہر ی خاصے پریشان بھی ہیں۔
وزراءاپنی حکومت کے گیت گاتے نہیں تھکتے ،معاشی معاملات پر تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے،حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے قرض پر قرض لے رہی ہے ایک بار پھرحکومت نے عوام پر قرضوں کا اور بوجھ بڑھا دیا،اقتدار کے آخری تین ماہ میں منی مارکیٹ سے اڑتالیس کھرب کا نیا قرض لینے کا منصوبہ بنا لیا، حکومت کو مختلف بینکوں کے اب بھی باون کھرب روپے کے قرضے واپس کرنا ہیں۔

 یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔چیئرمین سینیٹ کا انتخاب حکومت،اپوزیشن دونوں کیلئے امتحان بن گیا
پرانے اندرونی قرضوں کی واپسی کیلئے حکومت نے آئندہ تین ماہ کے دوران بینکنگ سیکٹر سے 48 کھرب 50 ارب روپے کا نیا قرض لینے کا فیصلہ کرلیا،اسٹیٹ بینک کے مطابق جون تک حکومت کو مجموعی طور پر 51 کھرب 88 ارب 69 کروڑ روپے کے اندرونی قرضے واپس کرنا ہیں،حکومت نے ٹریثری بلز کی نیلامی سے 46 کھرب روپے،، اور پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز کی فروخت سے 2 کھرب 50 ارب روپے حاصل کرنے ٹارگٹ رکھا ہے۔
حکومت کو ان قرضوں کی واپسی کیلئے مزید 360 ارب روپے کی ضرورت ہوگی،دوسری طرف حکومت کو بینکنگ سیکٹر سے نئے قرض لینے میں خاصی مشکلات کا سامنا بھی ہے،، گزشتہ ہفتے کے دوران حکومت نے ساڑھے 6 کھرب روپے کے قرضوں کیلئے منی مارکیٹ سے رجوع کیا تھا،، لیکن 3 کھرب روپے بھی نا مل سکے۔