چیف جسٹس نے ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ مان لیا


لاہور(  24نیوز  )  سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے نئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کیلئے پنجاب حکومت، پراسیکویشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔


تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی متاثرہ لڑکی بسمہ امجد کی درخواست پر سماعت کی تو عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے چیف جسٹس پاکستان کی عوام کی دادرسی کے لیے اقدامات کو سنہرا باب قرار دیا۔ طاہرالقادری نے دلائل میں کہا کہ پہلی جے آئی ٹی نے اپنی مرضی اور منشا سے یک طرفہ شہادتیں ریکارڈ کی ہیں اور حکومتی دباؤ کی وجہ سے متاثرین جے آئی ٹی کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے اس قانونی نقطہ پر استفسار کیا کہ کیا استغاثہ دائر ہونے کے بعد نئی جے آئی ٹی بنائی جا سکتی ہے؟ جس پر طاہرالقادری نے یہ جواز پیش کیا کہ ماضی میں سانحہ بلدیہ سمیت دیگر مقدمات پر دوبارہ جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔

عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہمارے لیے انصاف کا راستہ کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے وہ کیا جس کا حکم دیا گیا۔ جے آئی ٹی میں سے اختلافی نوٹس غائب کر دیئے گئے۔ پولیس کو فائرنگ کا حکم دینے والے بے نقاب ہونے چاہیئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے انسداد دہشت گردی عدالت کو ہدایت کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ٹرائل کے سلسلہ میں متعلقہ سرکاری افسران کو بھی طلب کیا جائے۔