ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی



اسلام آباد(24نیوز) ایشیائی ترقی بینک کے بعد ورلڈ بینک نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی، عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو2.7فیصدتک سکڑ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے بعد ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کی پیش گوئی کردی، ورلڈ بینک کا کہناتھا ہے کہ رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ2020 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے، اس سنگین صورت حال سے بچنے کے لئےپاکستان کو معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا ،پاکستان میں مالیاتی اور زرعی پالیسیوں کو سخت کر دیا ہے۔

ورلڈ بینک کا کہنا تھاکہ ان پالیسیوں کو سخت کرنے کا مقصد معاشی عدم توازن کو درست کرنا ہے،پاکستان میں مقامی کھپت میں کمی کا امکان ہے،برآمدات میں اضافے کی توقع ہے،رواں سال سروسز سیکٹر کی پیداوار میں کمی کی توقع ہے،زرعی اور صنعتی شعبہ کی پیداوار میں بھی کمی کا امکان ہے،2021 میں پاکستان کی شرح نمو چار فیصد ہو سکتی ہے،آئندہ برس ترسیلات زر میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو سکتا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق رواں سال تجارتی خسارہ زیادہ رہنے کی توقع ہے،پاکستان کو معاشی شرح نمو بڑھانے کے لئے سرمایہ کاری اور پیداوار کی ضرورت ہے،ریگولیٹری ماحول بہتر کرنے سے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت میں کمی لانا ہوگی، اس کے علاوہ آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس اصلاحات کرنا پڑیں گی،پاکستان کو کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔