پرویز مشرف شریف فیملی کو این آر نہ دیتے تو آج منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہوتا : وزیراعظم

پرویز مشرف شریف فیملی کو این آر نہ دیتے تو آج منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہوتا : وزیراعظم


وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیراطلاعات چودھری فواد حسین نے ملاقات کی۔ وزیراعظم عمران کا کہنا تھا کہ اگرپرویز مشرف حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر نہ فراہم کرتےاور اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر آتا تو آج ملک سے منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہوچکاہوتا۔

وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کی ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم  نے کہا کہ اگر جنرل مشرف کی جانب سے حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا اور اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر کیا جاتا تو آج پاکستان میں منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے حدیبیہ کیس میں ملنے والے این آر او کو آئندہ آنے والے تمام کیسز میں ماڈل کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ اب تک منی لاندڑنگ سے متعلق سامنے آنے والے تمام کیسز میں حدیبیہ کیس کا ماڈل استعمال کیا گیا ہے جہاں اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر بھیجا گیا اور پھر واپس منگوایا گیا۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے پیسے میں یہی ماڈل سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم نے وزیر اطلاعات کو ہدایت کی کہ یہ تمام تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائیں تاکہ عوام الناس کو گمراہ کرنے والوں کی اصلیت سے پردہ اٹھا کر انکا اصل چہرہ عوام کو دکھایا جا سکے اور ملکی معیشت پر ان سیاہ کاریوں کے نقصانات سے ان لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے جو آج مہنگائی اور بیرونی قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہیں.

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں لیے جانے والے ساٹھ ارب ڈالر بیرونی قرضے کا حساب لیا جانا چاہیے کہ عوام کو مقروض بنا کر اس خطیر رقم سے کس نے اپنی ذاتی تجوریاں بھری ہیں.

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بے نامی قانون کے تحت جو قوائد اور رولز بنائے ہیں اس سے منی لانڈرنگ پر قابو پانے اور دوسروں کے نام پر جائیدادیں رکھنے کی حوصلہ شکنی میں خاطر خواہ مدد ملے گی.

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔