قومی اسمبلی کا اجلاس، بیت المقدس منتقلی کیخلاف قرارداد منظور


 اسلام آباد:(24نیوز): قومی اسمبلی میں آج کا اجلاس امریکی صدر کی جانب سے بیت المقد کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے اور مسلمہ امہ کے کردار پر بحث میں گزرا۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیلی دارالحکومت کی بیت المقدس منتقلی کیخلاف قرارداد مذمت پیش کی جس کو منظورکر لیا گیا۔

آج قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر ایاز صادق نے امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے حوالے سے بحث کا آغاز کیا، جس کے بعد وفاقی وزیر برجیس طاہر نے امریکہ کی جانب سے اسرائیلی دارالحکومت کی بیت المقدس منتقلی کیخلاف قرارداد مذمت پیش کی جس کو منظورکر لیا گیا۔

کاروائی میں حصہ لیتے ہوئے سید نوید قمرنے کہا آج کا دن دنیا کی تاریخ میں تاریک دن ہے انکا کہنا تھا مشرق وسطی اور کچھ اسلامی ممالک تو امریکہ کو شیطان بزرگ کہتے ہیں، مولانا امیر زمان نے کہا امریکی اقدام عالمی اقدام کی سنگین خلاف ورزی ہے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا 1947ء میں برطانیہ نے جو آگ لگائی اس پر آج امریکی صدر نے پٹرول ڈال کر بھڑکا دیا ہے۔

فنکشنل لیگ کے غوث بخش مہر کا کہنا تھا مسلم امہ کو اس معاملے پر سخت نوٹس لینا ہوگا، جماعت اسلامی صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا امریکہ کا آج کا اعلان مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا مسلم امہ کو صرف مذمتی قراردادوں تک نہیں رہنا چاہیئے۔ اعجاز الحق نے کہا حکومت اس معاملے پر اسلامی دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرے ممبر اسمبلی آفتاب شیر پاؤ نے بھی ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت کی۔