ڈیجیٹل انسان بنانے کی تیاریاں

ڈیجیٹل انسان بنانے کی تیاریاں


لاس ویگاس(ویب ڈیسک)سائنس نے ترقی کرتے ہوئے نت نئی ایجادات کی ہیں ،نئی تحقیقات نے دنیا میں انقلاب بر پا کردیا ہے،اب ڈیجیٹل انسان بنانے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی میلے کا آغاز لاس ویگاس میں ہوا چاہتا ہے۔ اس میلے میں ساڑھے چار ہزار سے زائد ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سٹارٹ اپس پونے دو لاکھ حاضرین کے سامنے اپنی نئی مصنوعات پیش کریں گی۔

بڑی کمپنیاں عموماً اپنی بہترین مصنوعات مثلاً فلیگ شپ سمارٹ فونز، ٹی وی، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس وغیرہ اسی میلے میں متعارف کرتی ہیں۔اس میلے میں منفرد ڈیوائسز اور ٹیکنالوجیز بھی نظر آتی ہیں، جیسے اس مرتبہ ’ ڈیجیٹل انسان ‘ کی بڑی دھوم ہے۔ یہ ڈیجیٹل انسان  سام سنگ کے نئے پراجیکٹ ’نیون‘ کا حصہ ہے۔

فی الحال سام سنگ نے نیون کے بارے میں باضابطہ طور زیادہ معلومات جاری نہیں کیں لیکن جنوبی کورین کمپنی کی ذیلی اور اس منصوبے کی روح رواں لیب ’سٹار‘ کچھ ہفتوں سے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس حوالے سے ٹیزر جاری کر رہی تھی۔توقع کی جا رہی ہے کہ آپ اس مصنوعی انسان کو ہوٹلوں میں بطور ڈیجیٹل ریسپشنسٹ اور کسٹمر سروس، یا پھر ٹی وی پر بطور نیوز اینکر اور فلموں میں اداکار کے طور پر دیکھ سکیں گے۔

مستری نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں ڈیجیٹل انسانوں کو2020 کی نئی دہائی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی قرار دیا تھا۔ امید ہے سام سنگ اس میلے میں نیون سے متعلق مزید تفصیلات بھی جاری کرے گا۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer