وادی کاغان آخر اتنی اہم کیوں ہے؟


تحریر : احمدعلی کیف
اگر حسن تجسیم کا ذکر آئے تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ برِ صغیر ہمیشہ سے مرکز گردانا گیا ہے۔ برِصغیر سے یہ سلسلہ ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا۔ پاکستان کو بھی مزید بٹنا پڑا اور اس بٹوارے کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی علیٰحدگی سامنے آئی ۔ لیکن وادیءکاغان سے جڑی خوبصورتیوں کا شجرہ نسب ، برِ صغیر سے پاکستان تک آیا ، پھر سرحد تک پہنچا ،وہاں سے ہوتا ہزارہ کومَس کرتا، مانسہرہ کی سرزمین کو چھوتا، وادی ءکاغان سے جا ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  موسم بہار کی آمد، پھولوں کےنظاروں نے خوبصورتی کوچار چاند لگا دیئے
وادیءکاغان کا نام وہاں کے چھوٹے سے قصبہ کاغان سے پڑا اور یہ اسی قصبہ کے زیرِ سایہ پروان چڑھی، لیکن عالمگیریت کے عہدہ پر جا فائز ہوئی۔ وادی ءکاغان کا ذکر آتے ہی دلوں کے نگارخانوں میں حُسنِ تکلُّم کی شہنائیاں اپنی آب و تاب کے ساتھ پھوٹتی چلی جاتی ہیں ۔ ا س وادی کے خوبصورت ہونے میں بہت سی صفات کا ذکر آتا ہے ۔ ان صفات کو زیرِ قلم کرنے کی جسارت کی جائے تو تہی دستی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا۔ کیونکہ اس عالمگیریت پذیر وادی کا پیرایہ ءحسن اتنا وسیع ہے کہ بس۔۔۔۔!


 
وادی کاغان تک کے سفر میں خوبصورتیاں پا بہ پا بچھی ملتی ہیں ۔اگر لاہور سے روانگی اختیار کی جائے تو لاہور پاکستان کی ”آنکھ کاتارا“ کے طور پر جانا جاتا ہے تو اسلام آبادایک ” شفّافیوں کا انمول رتن“ ہے ،بالا کوٹ ”پشمینے کی راتوں“ سے ڈھکا ہوا ہے جبکہ ایبٹ آباد ”ستاروں کی ردائیں “اوڑھے ہے۔ یہ سفر مانسہرہ کی پلکیں روندنا چاہتا ہے تو سمجھ لیں چاند پر ایک خلا باز کا اترنا سانجھ میں آ تا ہے۔مانسہرہ سے وادیءکاغان تک جانا گلابوں بچھی پگڈنڈیوں پر چلنا تمثیل رکھتا ہے۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔وادی ءکاغان میں پہنچ جایا جائے تو سمجھ لیں ، سورج پیتل کی تھالی بن کر لٹک گیا ہے، بس چاندنی کا راج ہے، حسین رتوں کی چاکری میں پلا سجیلا موسم ہے کسی الھڑ کی اٹھتی انگڑائی سے ٹوٹتا موم ہے اور محبتوں کا لمس تھرکتی مٹّی پہ بچھ بچھ گیا ہے۔ کاش وادی ءکاغان ایک شاعرہ ہوتی ، کیا ہی حسین و جمیل مصرعے اترے ہوئے ٹھہرتے، نظموں کی آبشاریں ٹہل ٹہل کے گرتیں اور غزلوں کے دیوان ۔۔۔۔پر ۔۔۔۔دیوان ۔۔۔۔!

پڑھنا نہ بھولئے: خواتین نے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم کرلیا
 
خیبر پختونخواہ کی اس با مروّت واد ی کے قدرتی سبھاؤ کو شمالی علاقہ جات میں گنا گیا ہے ۔ جن علاقوں کو جنّت سمان کہنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس کے دل میں بہنے والے جھرنا در جھرنا دریا کو کنہار کہا جاتا ہے۔اس کا اُتار پاکستان کی ایک پسلی میں بہتی جھیل لولوسر سے شروع ہوتا ہے اور یہ انزال ملکہ پربت سے سیف الملوک جھیل اور مکڑا چوٹی سمیت وادیءکاغان کے چرنوں کو چھوتا دریائے جہلم کے بازوو¿ں میں ہانپ کر آن گرتا ہے ۔ یہ دریائے کنہار کی خاصیت ہے کہ اس میں ٹراؤٹ مچھلی جس کو بہت نفیس گرد انا جاتا ہے ، پائی جاتی ہے۔ اس دریا کے ساتھ ایک اور خوبی بھی ہے جو سڑک کی صورت اس سے جڑی ہوئی ہے،یہ سڑک بالاکوٹ تک جانے کے لیے ایک دلنشیں ہمنشیں کا سا ساتھ دیتی ہے۔اس کا پانی جب جب بھی کناروں سے لپٹی چٹانو ںسے ٹکراتا ہے ایک کمال کی خوبصورتی سے مزیّن منظر ابھرتا ہے اور ابھر کر آنکھوں کے سامنے پھیل جاتا ہے۔لیکن یہی خوبصورتی کی لپیٹوں سے پھیلتا منظر کمزور دلوں کے لیے خوف ناکی سے خالی نہیں ہوتا ۔


دریائے کنہار سے جڑتی ملکہ پربت کی چوٹی بھی وادی کاغان کے وسیع سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کے شمال میں موجود تقریباََتمام خوبصورت علاقوں کو وادیءکاغان سے پیوستی نصیب ہے۔ اور ملکہ پربت بھی انھی میں سے ایک ہے۔ پہاڑوں کی ملکہ کہلانے والی اس چوٹی کو وادیءکاغان کی بلند ترین چوٹی مانا جاتاہے۔ اس کی بلندی 17500 فٹ ہے جو 5334 میٹر بنتی ہے۔ یہ جھیل سیف الموک سے چھے کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔اور کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ سے متصل ہے۔
اس سے آگے کا ایک ذکر جو آنسو جھیل پر مشتمل ہے۔قدرت کی کون سی آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو وادی ءکاغان کی یہ جھیل ٹھہرا ہے۔ایسی جھیل جس کو دیکھتے ہی محبت کی آمیزش سے لبریز آنسو ہر دیکھنے والے کی آنکھوں اتر آتے ہیں ۔ آنسو جھیل ملکہ پربت کے قریب میں وقوع پذیر ہے ۔
زمین دور سے تارا دکھائی دیتی ہے
ٹکا ہے چاند اس پہ چشمِ سیر بیں کی طرح
منیر نیازی کے اس شعر کی تکلیم میں اگر ذرا بلندی پر جا کر اس جھیل کو دیکھا جائے تو یہ ایک آنسو کی شکل اختیار کیے نظر آتی ہے ۔جیسا کہ ایرانی شہزادہ ایک پری کا عاشق تھا اور وہ اس کی خاطر ادھر کے علاقوں میں آیا تھاتو شاید اس پری کی غم میں یہاں کے چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کے بیچ بیٹھ کے روتا رہا ہو گا اور وہ اس کے غم میں شریک ہونے کے لیے اور اس کا دکھ نا دیکھ پاتے ہوئے خود بھی رو دیے ہوں گے ۔آنسو جھیل انھی کے مداوائے غم میں تخلیق پاگئی۔

ضرور پڑھئے: اسکردو میں برفباری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری 

جھیل سیف الملوک ، وادی ءکاغان میں قدرت کا ایک چشمہ ہے جس سے  حسن اور خوبصورتی پھوٹتے ہیں ۔ ان سے جسم کے ہرہر انگ کو تر کرنے کو ایک ایک ذی روح کی خواہش تڑپ تڑپ جائے جو اس کی خوش منظری سے واقف ہو جائے۔پاکستان کی اگر خوبصورتی کا جھومر جھیل سیف الموک کو قرار دے دیا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر قدرت مہربان ہوتی ہے تو وہ انتہا نہیں بے انتہا کر دیتی ہے۔اور وہ بے انتہائی جھیل سیف الموک کے حسنِ بے بہا پر خوب برتی ہوئی نظر آتی ہے۔جھیل سیف الموک 10578 فٹ یعنی 3224.2 میٹرکی بلندی پر خود کو پسارے ہے۔یہ قصبہ ناران جو وادی ءکاغان ہی کا حصّہ ہے ، سے قریب ہے۔

اس کے دامن پر پاکستان کی بلند ترین جھیل ہونے کا ایک پھول بھی کاڑھا گیا ہے۔اس جھیل کے بازوؤں پر کشیدہ کاری کے ذریعہ کروشیے کے ساتھ محبت کے کچھ ادوار بھی کاڑھے گئے ہیں ،جن کو خود میں سرایت ہوتا محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ میاں محمد بخش کا اس کے ساتھ ان محبت کے ادوار میں سے ایک دور جڑتا ہے جس نے اُن سے سیف الموک جیسی ایک لافانی داستان رقم کرا دی ۔اور اس داستان میں وہی حسن چلتا پھرتا ایک اور ہی لہک دہک کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔ اس داستان میں شہزادہءفارس سیف الموک نامی پری کا عاشق ہو جاتا ہے جو اپنی تجلیّوں کو پورے چاند کی رات میں اس جھیل پر آن بکھیرتی تھی۔ایک تو وہ پری تھی دوسرا اس کا نام سیف الموک تھا اور اس پہ مستزاد میا ں محمد بخش کا شاعرانہ تکلُّم ،کیسا ایک چاند تراش کے سرزمینِ وادی ءکاغان پہ ٹانک دیا گیا۔

لازمی پڑھئے: وادی ہنزہ کی خوبصورتی پرتصویری نمائش کا انعقاد
 
اس داستان کو بعد میں ڈاکٹر مجاہد حسین نے نثر میں تحریر کیا ہے ، جو اصل میں میاں محمد بخش کی شاعری کی طرزِ تحریر میں لکھی داستان ہی پر مبنی ہے۔
سیف الموک جھیل وادی ءکاغان کے شمالی اخروی سرے پر ہے جہاں سے ناران کا ٹاور قریب میں لگتا ہے۔اوراس جھیل کی آنکھوں میں ذرا جھانکیں توملکہ پربت سمیت دوسری قریبی پہاڑیوں کا عکس جھلملاتا نظر آتا ہے ۔
دریائے کنہار کے اُتار کی جانب کو ذرا دھیان میں لائیں تو لولوسر کی جھیل کا تذکرہ بھی بنتا ہے۔ لولوسر کی جھیل ناران سے قریب ہے ،لیکن ناران سے بابو سر ٹاپ کی جانب جاتے ہوئے ،رستے میں پڑتی ہے۔
وادی ءکاغان کے تفریحی مقامات میں شوگران کا ذکر بھی آتا ہے ۔یہ ایک خوبصورت مقام ہے اور یہاں کی سری اور پائے جھیلوں کا ایک اپنا ہی انداز ہے جو ان کی انفرادیت کا بھی ضامن ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ مکڑا چوٹی کو تکنے کا بھی کچھ الگ ہی نظارہ آنکھوں کے راستے دل کو بہتا محسوس ہوتا ہے۔


اوپر مذکور ناران کو بھی کچھ الفاظ کے ذریعے کھولنے کی کوشش ؛سطح سمندر سے سات ہزار کے قریب بلندی پر واقع یہ بھی ایک قصبہ ہے ۔جس کے پاس سیف الملوک جھیل اور ملکہ پربت جیسا ایک حسیں اثاثہ ہے۔ناران میں ایک کمال نہیں کئی ایک ہیں۔یہاں پر کوہ پیمائی کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں اور آنے والے لوگ اپنے ذوق کی تسکین پاتے ہیں۔یہاں کی آرام گاہیں خاص اہمیت کی حامل ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔

پڑھئے اور جانئے:فیشن صرف خواتین کی جاگیر نہیں رہا،گھوڑوں کا میک اپ بھی ہونے لگا
ان سب کا احاطہ کیے وادی ءکاغان کا سرہمیشہ دلکشی کے تاج سے بلندو بالا رہے گا۔8اکتوبر 2005ءکے برباد نگار زلزلہ نے اس سر کو کچلنے اور تاج کو چھیننے کی تمام تر کوشش کی لیکن اسی قدرت کامل نے بھرم رکھااور ایک بار پھر سے وہی راج پاٹھ رواں ہو گیا۔اس کی بلندی2134 میٹر تک سے لے کر درہ ءبابو سر کے یہاں 4173 میٹر سطح سمندر سے ٹھہرتی ہے۔اور اس کا پھیلاؤ 155کلو میٹر پر مشتمل ہے۔وادی ءکاغان کی آبادی میں پشتو اور اردو زیادہ تر جانے والی زبانیں ہیں۔اس علاقہ کو چراگاہیں اور جنگلوں نے ڈھانپا ہوا ہے، جو اس کی ایک خوبی ہے۔


یہاں پر سیاح بہت زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔ان خوبصورتیوں کو اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے باندھ کر لے جاتے ہیں۔یہاں پر سیاحوں کو بہت زیادہ آرام دہی کے لیے100 کے قریب ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔چونکہ یہ پورا علاقہ پہاڑی اور پتھریلا ہے ، اس لیے یہاں پر جیپ سے بہتر کوئی سواری ہی ہو۔ہاں گھوڑے اورخچّر بھی اس ضمن میں بہترین پائے گئے ہیں ۔
اس خوبصورتی اور دلکشی کی جنّت کو ندی نالوں ، جھیلوں، آبشاروں، چشموں اور گلیشیئروں کی سر زمین کہا جاتا ہے اور پاکستان کی اس جنّت کو اللّہ دائم قائم رکھے!