حکمران بدل گئےرمضان نہ بدلا

حکمران بدل گئےرمضان نہ بدلا


نام کے ساتھ حاجی کا لاحقہ، خوبصورت لمبی داڑھی، ماتھے پر محراب، سر پر خوبصورت دستار سجائے سیٹھ جی اپنے ملازم پپو سے فرما رہے تھے کہ تمام چیزوں کے بھاؤ چڑھا دو۔ بھنڈی ، توری ، پھل، دالیں، چینی، شربت سب مہنگا کردو۔ کوئی بھی چیز پہلی والی قیمت پر نہیں رہنی چاہیئے، یہی موقع ہے منافع کمانے کا، آخر نیا بنگلہ بنانا ہے، بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے۔ پپو نے نادانی میں پوچھ لیا کہ صاحب آج اتنے خوش کیوں ہیں؟ سیٹھ نے خوشی سے بھرپور لہجے میں جواب دیا، پپو کم عقل رمضان جو آگیا ہے۔

جی ہاں تاجروں اور اداکاروں کا رمضان آگیا ہے۔ ملک بھر کے بازاروں میں یکساں کیفیت دیکھنے کو ملی۔ تاجروں نے اشیاء صرف کے نرخ ایسے بڑھائے کہ خریداری کیلئے آنے والے ہوش گنوا بیٹھے۔ منافع خوروں نےٹماٹر فی کلو 50، توری 50، کریلا 60 روپے،لیموں 400 روپے  کلو، ادرک فی کلو 200 روپے ، پیاز 40 روپے فی کلو، آلو 20 روپے فی کلو، دھنیاں 100 روپے ،کیلا 100 سے 120روپے درجن، چیکو 140 روپےکلو اور گرما 120 روپے ،سیب 400 سے 450 روپے  کلو اورتربوز 50 سے 70 روپے کلو کردیا،مرغی کا گوشت 320 روپے فی کلو اور مٹن، بیف اور مچھلی کی قیمتیں بھی بڑھا دیں۔

یہ اتحاد ملک کے تمام تاجروں اور ناجائز منافع خوروں میں پایا جاتا ہے، ملتان میں لوکل سیب 300، ترکی کا سیب 450 جبکہ چائینہ کا سیب 550 روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے،سبزی پھل اور گوشت کے علاوہ مشروبات بھی مہنگے کردیے گئے ہیں۔

دنیا بھر میں جب رمضان آتا ہے تو اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں گرادی جاتی ہیں۔ غیر مسلم ممالک میں بھی ریلیف دیا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا سمیت یورپ کے تمام ممالک میں اشیاء خورد و نوش سستی کردی جاتی ہیں، حتیٰ کے بھارت میں بھی مسلمانوں کو رمضان میں خصوصی رعایت دی جاتی ہے،لیکن پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر شے دگنی قیمتوں پر فروخت کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں جس کام کو نہ کرنے کا وعدہ یا اعلان کیا جاتا ہے اُس کے بالکل برعکس عمل کیا جاتا ہے۔حکومت  نے ایک دن پہلے ہی کہا تھا کہ رمضان المبارک میں گرانفروشی نہیں ہوگی،لوڈشیڈنگ بھی نہیں کی جائے گی لیکن مجال ہے کہ کسی نے بھی کان دھرے ہوں۔ بات سحری یا افطاری کی ہو یا پھر تراویح کی، بجلی مشکل سے ہی نصیب ہوتی ہے۔  کراچی سمیت پورا سندھ ۔خیبر  پختونخوا  میں لوڈشیڈنگ اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ بلوچستان میں تو حالات اِس سے بھی گئے گزرے ہیں، پنجاب کے دارالحکومت اور دیگر چند شہرے میں حالت قدرے بہتر ہے ،دیہات میں ابھی بھی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے حکمران،افسر اور زیادہ سے زیادہ کھانے کے چکر مال اکٹھا کرنیوالے ناجائز منافع خور  ناجانے کیوں نہیں سمجھتے کہ دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس پر وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں۔ عوام ان سے دہائی دیتے پھرتے ہیں کہ آپ لوگ  پورا سال تو ظلم و زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں، کم از کم ایک رمضان کے مبارک مہینے کو تو بخش دیں، اتنا ہی کمائیں جس کا رب کے حضور جواب دے سکیں۔ جھوٹ بول کر سیاست کی دکان چمکانےاور مال اکٹھا کرنے  سے عارضی چھٹکارا تو مل جائے گا لیکن مستقل چھٹکارا پانا مشکل ہوجائے گا۔

جہاں حکمرانوں کی ذمہ داریاں ہیں اس سے بڑھ کر ہم پر لازم ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو یاد رکھیں۔ یہ نہ ہو کہ آپ پیٹ بھر کر سحری کرلیں، افطار کے وقت انواع و اقسام کے کھانے ہڑپ کرجائیں اور پڑوس میں کوئی بھوکا سوجائے، کوئی فاقوں سے مرجائے۔کسی کے مرنے پر اِس کے ہونٹوں کو گھی سے تازگی بخشنے سے پہلے اِس کی سانسیں بحال رکھنے کا بندوبست کیجئے۔ بڑی دستار، ماتھے پر محراب اچھی لگتی ہے، اِس کی لاج بھی رکھیے، اِس کا فرض بھی نبھائیے۔ جس آخرت کی بہتری کیلئے یہ حلیہ اپنایا ہے، ناجائز منافع خوری کرکے دوسروں کیلئے دنیا کو ہی جہنم نہ بنائیے۔

میں سوچتا تھا کہ ملک کے حکمران بدل گئے پاکستان کے حالات بھی بدل جائینگے اس بار رمضان میں بھی تبدیلی نظر آئے گی،افسوس کہ حکمران تو بدل گئے حاجی صاحب اور پپو کا رمضان نہ بدلا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer