پاکستان اور آئی ایم ایف میں باقاعدہ مذاکرات شروع

پاکستان اور آئی ایم ایف میں باقاعدہ مذاکرات شروع


اسلام آباد(24نیوز) آئی ایم ایف کی ٹیم آج اسلام آباد پہنچی،   پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان قرض پروگرام کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع ہو گئے،  یہ مذاکرات 2 ہفتے تک جاری رہیں گے۔ذرائع کے مطابق  آئی ایم ایف کی شرائط میں زیادہ تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم  دو ہفتوں کے لئے اسلام آباد پہنچ چکی ہے ،آج انٹر نیشنل  مانیٹری فنڈ سے  قرضےکیلئےمذاکرات ہوں گے، پاکستان آئی ایم ایف ٹیم کو اپنی مالی صورت حال سے آگاہ کر ے گا،   آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کے وزارت خزانہ، ایف بی آر، سٹیٹ بینک کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شرکت کریں گے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف میں باقاعدہ مذاکرات شروع

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے 6 ارب ڈالر اور چین کے ممکنہ پیکج کے بعد بھی پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پوزیشن زیادہ بہتر نہیں ہوئی،  قرضے کی ضرورت کم ہونے کے باوجود  بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کے پروگرام کی ضرورت ہے،  کیونکہ عالمی بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے رقم لینے کے لیے بھی آئی ایم ایف کا سرٹفیکیٹ ضروری ہے۔

جبکہ بیرونی سیکٹر پر دباؤ عارضی طور پر ہی کم ہوا ہے،  اگر ٹھوس متبادل انتظامات نہ ہو سکے تو سال بعد پاکستان کوموجودہ صورتحال سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا ہو گا۔  ذرائع کے مطابق بجٹ خسارے،  بیرونی ادائیگیوں اور ریونیو میں کمی کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف کی زیادہ تر شرائط پر عمل کرنا پڑ سکتا ہے،  آئی ایم ایف کی طرف سے مختلف سیکٹر میں اصلاحات کے علاوہ  روپے  کی قدر میں کمی اور شرح سود 10 فیصد سے زیادہ کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت  مذاکرات سے قبل ہی روپے کی قدر میں کمی،  بجلی اور گیس مہنگی کرنے کے علاوہ شرح سود میں بھی اضافہ کر چکی ہے،  لیکن شاید یہ سب کچھ کافی نا ہو، عوام کو مزید مہنگائی کے لیے تیار رہنا چائیے،  آئی ایم ایف کے پروگرام سے حالات بہتر ہوں یا نہ ہوں مہنگائی تو لازمی ہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔