ایف آئی اے ناکام،استاد اور طالبعلم بھی لٹ گئے


لاہور( 24نیوز ) ایف آئی اے کا سائبر کرائم کو کنٹرول کرنے والے شعبے کا اپنا ہی براحال ، صارفین کی شکایات کےلئے دیا گیا فون نمبر خاموش نکلا،کوئی جواب موصول نہیں ہورہا،بائیس بینکوں سے ڈیٹا چوری کرلیا گیا مگر ادارے نے نوٹس نہیں لیا۔
پاکستان میں بائیس بینکوں پر ہیکرز حملہ آور ہوئے،19 ہزار سے زائد ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری ہوا ہے،کھاتے صاف کردیئے گئے جو ایک ڈارک ویب پر فروخت کے لیے موجود ہے،اس موقع پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے حرکت میں آیا، صارفین کی مدد کےلئے انکوائری نمبر 03366006060 دیا گیا،متاثرین مذکورہ نمبر پر فون کرکے تھک گئے مگر کوئی ریسپانس نہیں مل رہا،لوگ پریشان ہیں کہ وہ دادرسی کےلئے کس ادارے کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر سائبر کرائمز ونگ کیپٹن (ر) شعیب کاکہنا ہے کہ پاکستان میں تقریباً سارے ہی بینکوں کا ڈیٹا بیرون ملک سے ہیک کیاگیا ہے جب کہ گزشتہ ہفتے ایک بینک کی ویب سائٹ بھی ہیک ہوئی۔
دوسری طرف جہانیاں کا طالب علم لٹ گیا اس کے اکاﺅنٹ سے 2 لاکھ 4 ہزار کی نقدی چوری کرلی گئی ، بینک نے معاونت کرنے سے معذرت کر لی ، ایف آئی اے بھی تاحال سراغ نہ لگا سکی، فورتھ ائیر کے طالب علم اسد اللہ کو کال موصول ہوئی کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس کا بینک اکاﺅنٹ اپڈیٹ کرنا ہے وہ پرسنل معلومات فراہم کرے، طالب علم کے انکار پر بینک کی ہیلپ لائن سے کال کر کے ڈیٹا فراہم کرنے کا کہا گیا جس پر ڈیٹا فراہم کر دیا گیا مگر اگلے چند منٹ اکاونٹ سے رقم کا صفایا کر دیا گیا، رابطہ پر بینک نے مدد سے انکار کر دیا جس پر ایف آئی اے میں درخواست گزاری گئی جس پر بھی تاحال کاروائی نہ ہو سکی ۔
اسد اللہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اخراجات کے لیے رقم جمع کی ہوئی تھی جس کے لٹنے سے وہ شدید پریشان ہے،طالب علم نے رقم ریکوری کا مطالبہ کیا ہے۔
طالب علم کے بعد چشتیاں کا استاد بھی ان ہیکرز کے ہاتھوں لٹ گیا،اس کے بینک اکاﺅنٹ سے جمع پونجی صاف کردی گئی،متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ بیٹی کی شادی کیلئے رقم جمع کررکھی تھی ،رقم نکلوانے گیا تو پتا چلا کہ اکاﺅنٹ میں صرف 23روپے ہیں۔دونوں متاثرین نے حکومت پاکستان سے داد رسی کی اپیل کی ہے۔