پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کو رہائی مل گئی

پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کو رہائی مل گئی


لاہور( 24 نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت 4 پروفیسرز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دےدیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس مسعود عابد نقوی پر مشتمل دورکنی بنچ نے سابق وی سی پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران، سابق رجسٹرار ڈاکٹر لیاقت، ڈاکٹر امین اطہر، ڈاکٹر کامران عابد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت میں درخواست گزاروں کی جانب سے اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ، قاضی مصباح الحسن ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیاکہ ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت 4 پروفیسرز کو نیب نے 550 اساتذہ کی غیرقانونی بھرتی کے الزام میں گرفتار کیا، حالانکہ سنڈیکیٹ نے کمیٹی کو بھرتی کا اختیار دیا تھا۔

درخواست گزار وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سلیکشن بورڈ نے سنڈیکیٹ کی منظوری سے اساتذہ کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا۔ اس کنٹریکٹ پر بھرتی کیلئے اخبار میں اشتہار کی ضررورت نہیں تھی۔

وکلاء نے کہا کہ نیب کے پاس بے ضابطگی کے معاملے پر گرفتاری کا اختیار نہیں، نیب کے محکمہ میں غیرقانونی بھرتی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث آیا، غیرقانونی بھرتی ثابت ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نےمقدمہ درج کروانے کی بجائے صرف انکوائری کا حکم دیا۔ درخواستگزاروں نے وی سی ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت گرفتار دیگر پروفیسرز کی درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی۔ 

نیب پراسیکیوٹر کیجانب سے درخواست ضمانتوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ بھرتی میں پنجاب یونیورسٹی کے رولز کو نظر انداز کیا گیا۔ سنڈیکیٹ کے علاوہ کسی کمیٹی کو بھرتی کا اختیار نہیں۔

جسٹس علی باقرنجفی نے نیب کے جواب پر عدم اعتماد  کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے پروفسیر کو ہتھکڑیاں لگانے پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پڑھانے والے اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر کیا تاثر دیا گیا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد سابق وی سی پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت چاروں پروفیسرز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں پانچ پانچ لاکھ کے دومچلکوں کےعوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

صغراں افضل

صغراں افضل(ایڈیٹر)