نئے پاکستان میں سوال کرنا جرم بن گیا


ہالہ( 24نیوز )نئے پاکستان میں مقتدر حلقے خود ہی مدعی،خودہی منصف بن بیٹھے،عوام میں بھی عدم برداشت کی خبریں عام ہوگئیں،لاہور میں وارڈنز کے ہاتھوں شہریوں توشہریوں کے ہاتھوں وارڈنز اور پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں،سندھ کے علاقے ہالہ میں تو ظلم کی انتہا ہوگئی،کلرک کو رشوت نہ دینے پر ایک باپ کی تذلیل کی انتہا کردی گئی۔

ہالہ میں ڈگری کالج کے کلرک نے فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹی کا فارم لینے کیلئے آنے والے شخص سے تضحیک آمیز سلوک کیا، پرنسپل کو شکایت لگانے پر زیرتعلیم بچوں کو نکلوانے کی دھمکی بھی دی جس پر غریب باپ پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے پرمجبور ہو گیا۔ متاثرہ شخص نے بلاول اور وزیراعلیٰ سندھ سے انصاف کی اپیل کر دی۔

بتایا جاتا ہے کہ ہالہ نیوسعید آباد کالج میں ظفراللہ نامی شخص اپنی بیٹی کا ایم اے فائنل کا فارم حاصل کرنے کیلئے کالج آیا جس کے دوران سبجکیٹ معلوم کرنے پر کالج کلرک طیش میں آگیا۔کالج پرنسپل کو شکایت کرنے پر تمام سٹاف یکجا ہوگیا اور ظفراللہ سے کہا کہ تم نے ہماری بے عزتی کروائی ہے، پرنسپل کو کیوں بتایا۔ کلرک نے غضبناک ہوتے ہوئے کرسیوں کو لاتیں ماریں اورلوگوں کے سمجھانے بجھانے پربھی کسی کی ایک نہ سنی۔

متاثرہ شخص ظفراللہ نے بتایا کہ اسکے دو بیٹے اور بیٹی کالج میں زیر تعلیم ہیں ان کو کالج سے نکلوانے کی دھمکی دی۔ کلرک نے پیر پکڑکر معافی مانگنے پر مجبورکیا۔ کالج پرنسپل نے موقف اختیار کیا کہ مجھے معاملے کا بتایاگیا تو ظفراللہ اور سٹاف کی صلح کروادی۔ متاثرہ شخص نے وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو زرداری سے نوٹس لینے کی اپیل کردی۔