ایف آئی اے نے چوری اور پھر سینہ زوری کی مثال قائم کردی

ایف آئی اے نے چوری اور پھر سینہ زوری کی مثال قائم کردی


 اسلام آباد( 24نیوز ) ایف آئی اے میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے نائب قاصدتک 419 اسامیوں پربغیر اجازت غیرقانونی بھرتیوں کا فیصلہ کرلیا گیا، اشتہاربھی آگیا۔

 تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سے نائب قاصد تک 419 اسامیوں پر بغیراجازت غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے،  ٹوئنٹی فور اصل حقائق سامنے لے آیا اور غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق دستاویزات حاصل کرلیں،  جس کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سے نائب قاصد تک 400 سے زائد اسامیوں پر بھرتی کا اشتہار اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر نمبر آئی سی اے 340/17 کی کھلی خلاف ورزی ہے،   بھرتیوں کے لئے ڈی جی بشیر میمن نے ایف پی ایس سی کے رولز کی بھی خلاف ورزی کی۔

 دستاویزات کے مطابق سیکشن 7 کے مطابق گریڈ 16 یا اس سے زائد کے لئے بھرتی خالصتاً ایف پی ایس سی کے ذریعے ہی ہوگی،  من پسند افراد کو نوازنے کے لئے خواتین، معزوروں یا علاقائی کوٹہ مختص کئے بغیر اسامیاں مشتہر کردیں,  انسپکٹر، اے ڈی اور ڈی ڈی کے لئے تعلیمی قابلیت عملی تجربے اور عمر کی حد میں بھی کوئی ربط نہیں،   ایف آئی اے میں پانچ سال قبل غیر قانونی بھرتیوں پر بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے انہیں ایف پی ایس سی جانے کے احکامات دے رکھے ہیں۔

ایف آئی اے میں تعینات ریگولرافسروں میں ان غیر قانونی بھرتیوں سےمتعلق گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER