چیف جسٹس کا عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کا اعلان

چیف جسٹس کا عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کا اعلان


اسلام آباد(24نیوز) چیف جسٹس پاکستان نے مارگلہ ہلز کیس میں ریمارکس دیے کہ بتایا جاتا ہے کہ عدالتی اصلاحات نہیں ہورہیں،بتایا جائے نظام عدل میں اصلاحات لانا کس کا کام ہے،ہم نظام عدل میں اصلاحات لیکر آئیں گے، پھر کوئی یہ نہ کہے سپریم کورٹ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کررہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے مارگلہ ہلز کیس میں سی ڈی اے کو دو ماہ میں قوانین بنانے کا حکم دیے دیا ہے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے مارگلہ کے پہاڑوں کی کٹائی کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی ،سماعت میں وزیر مملکت کیڈ نےمارگلرہلز سے متعلق موقف پیش کرتے ہوئے کہاکہ پہلے 20 سال وفاق کو پنجاب چلاتا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ آپ کا بچپن گزر چکا ہے،آپ بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کہا جاتا ہےکہ عدالتی اصلاحات نہیں ہورہیں،بتایا جائے نظام عدل میں اصلاحات لانا کس کا کام ہے،آج تک پارلیمنٹ نے نظام عدل میں اصلاحات کیلئے کتنے قوانین بنائے ہیں؟؟
چیف جسٹس نے کہاکہ اب ہم نظام عدل میں اصلاحات لیکر آئیں گے، پھر کوئی یہ نہ کہے سپریم کورٹ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کررہی ہے،زبانی کلامی جائیدادیں الاٹ کردی جاتی ہیں؟عدالت نے کیس میں سی ڈی اے کو قوانین بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس دو ماہ کےلیے ملتوی کردی۔
چیف جسٹس پاکستان نے جیلوں میں پینے کے صاف پانی سے متعلق نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے آئی جیز جیل خانہ جات سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔