انتظار قتل کیس: ماہ رُخ، لیلیٰ، مدیحہ کیانی، مقدس حیدر کی انٹریاں اور مجرموں کی ضمانتیں


کراچی (24 نیوز) انتظار قتل کیس اب تک کسی نتیجے پر نہ پہنچا۔ دوسری جے آئی ٹی بھی اصل محرکات جاننے میں ناکام نظر آنے لگی۔ قتل کیس میں سامنے آنے والے نت نئے کرداروں نےمعاملہ الجھاکررکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ ڈیفنس میں اے سی ایل سی پولیس کی فائرنگ سے نوجوان انتظار کے قتل کا معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ چون روز، دو جے آئی ٹیز متعدد پیشیاں اور بے شمار دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

یہ بھی پڑھئے: انتظار قتل کیس میں ڈرامائی موڑ 

انصاف کے متلاشی باپ کو 2 مرتبہ پہلی اور 4 مرتبہ دوسری جے آئی ٹی نے طلب کیا۔ قتل کیس میں یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے نت نئے کرداروں نے معاملہ الجھا کر رکھ دیا۔

بارہ فروری کو وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر بننے والی دوسری جے آئی ٹی نے پندرہ روز میں کام مکمل کرنا تھا۔ دوسری جے آئی ٹی چوبیس روز گزر جانے پر بھی قتل کے اصل محرکات جاننے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے.

پڑھنا نہ بھولئے: عینی شاہد مدیحہ کیانی گرفتار، ماہ رُخ کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ 

قتل کیس میں پہلے مدیحہ کیانی اور مقدس حیدر شک کے دائرے میں آئے۔ ماہ رخ، لیلیٰ، سلیمان، غلام عباس، سہیل حمید اور ڈی ایس پی عامر حمید کے کردار سے متعلق بھی تفتیش کی گئی۔

مقتول کے والد قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ انتظار کے والد مسلسل گلا کررہے ہیں کہ جے آئی ٹی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ نہیں کررہی۔

ضرور پڑھئے: داعش پاکستان میں کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کرتی ہے؟ گرفتار دہشتگرد نے ایپلی کیشن بھی بتا دی 

دوسری جانب سٹی کورٹ میں واقع ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں انتظار قتل کیس میں نامزد ملزم ایس ایچ او طارق رحیم کی ضمانت کے معاملہ میں پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا ہے کہ کیس میں ازسرِ نو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ عدالت نے ملزم طارق رحیم کی عبوری ضمانت میں مزید 10 مارچ تک توسیع کردی ہے۔