دور حاضر میں بھی صنف نازک بنیادی انسانی حقوق سے محروم


اسلام آباد(24نیٍوز) کائنات کا حسن و توازن عورت ہی کے دم سے قائم ھے، یہ ماں بہن بیٹی اور بیوی کے روپ میں اپنا کردار ادا کر رہی ھے، عورت ماں بنی تو قربانیوں کی داستان رقم کر گئی۔

تفصیلات کے مطابق میٹرنٹی بینفٹس ایکٹ کا اطلاق کس قدر ہورہا ہے؟ ورکنگ ویمن کو آج بھی ملازمت کی جگہ پر ہراسگی کا سامنا رہتا ہے۔بہن بنی تو شفقتوں کے انبھار لگا دیئے۔ بیوی کے روپ میں سراپا وفاء کہلائی اور جب بیٹی بن کر آئی تو رب کی رحمت بن گئی۔ عورت کہیں تربیت اور کردار سازی کے حوالے سے کہیں معاشی تگو دو میں حصہ لے کر اور کہیں سیاسی جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کی راہ روشن کر رہی ھے۔ آج کی عورت زندگی کے تمام شعبوں میں صلاحیتوں کو بروِ کار لا کر ملکی تعمیر و ترقی میں معاون و مددگار ثابت ہو رہی ھے۔

یہ بھی پڑھیں:عاصمہ قتل کیس: قاتل کا عدالت کے سامنے اعترافِ جرم      

واضح رہے کہ خواتین کا دفاتر میں کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔جہاں ان کی پرفارمنس چیک کی جاتی ہے وہیں پر انکو ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔حراسگی کے واقعات سے نمٹنے کےلئےایکٹ 2010 بھی موجود ہے۔خواتین کے عالمی دن کےحوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب میں سینیٹرسحر کامران کا کہنا تھا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے پیپلز پارٹی نے بہت کاوشیں کی ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:گھوٹکی: شادی سے انکار جرم بن گیا، 18 سالہ لڑکی کا قتل  

 دوسری جانب  پی ٹی آئی کی رہنما فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ورکنگ ویمن کی لئے پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔جبکہ خواتین سےمتعلق وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ خواتین کی ہرقسم کی داد رسی کی جائےگی اور انھیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹبلٹی کی ایک رپوٹ کے مطابق 44 فیصد پرائیوٹ، 70 فیصدحکومتی اداروں اور 100 فیصد انڈسٹریل اداروں میں خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔تقریب کا مقصد ورکنگ ویمن کو ان کےحقوق اور حفاظتی قوانین سے آگاہ کرنا تھا۔