ملک بھر میں تھیلیسمیا سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے


اسلام آباد(24نیوز) ملک بھر میں تھیلیسیما سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پاکستان میں اب بھی موذی مرض کا شکار ہزاروں بچےاپنی زندگی کےلئے تگ و دو کر رہے ہیں۔

 پاکستان میں ہر سال عطیہ کئے جانے والے خون میں سے 70 فیصد خون تھلیسیمیا جیسے موذی مرض میں مبتلا بچوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ جس میں چوتھی کلاس میں زیر تعلیم سات سالہ مسکان بھی ہے جو ہر پندرہ دن بعد خون کی منتقلی کے لئے پشاور کا رخ کرتی ہے۔مسکان کہتی ہے کہ کسی کی زندگی کو بچانا ایک عظیم احساس ہے اور یہی احساس امید زندگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تھیلیسیمیا موذی مرض، صوبائی حکومتوں کی توجہ وقت کی ضرورت ہے، مریم اورنگزیب

خون عطیہ کرنا گویا انسانی جان کا عطیہ ہے لیکن پاکستان میں سیکنڑوں مریض بروقت خون نے ملنے سے دم توڑ دیتے ہیں.پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ بچے تھلیسیمیا کا شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں اندازہ ہر سال اٹھ سے بارہ ہزار تک تھیلسیمیا میجر کے نوزائیدہ متاثرہ مریض پیدا ہو رہے ہیں،طبی ماہرین کے مطابق تھلیسیمیا کے حوالے سے قانون سازی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے ہی اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔