ادویات نہیں ڈانس،وزیر ستان کے ڈاکٹروں نے انوکھا طریقہ علاج ڈھونڈ لیا

ادویات نہیں ڈانس،وزیر ستان کے ڈاکٹروں نے انوکھا طریقہ علاج ڈھونڈ لیا


میران شاہ( 24نیوز )آپ نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو علاج کرتے دیکھا ہوگا،دیکھا نہیں تو سنا ضرور ہوگا،لیکن اب ایک ایسا طریقہ علاج سامنے آیا جو ” منا بھائی ایم بی بی ایس “نے بھی نہ استعمال کیا ہوگا،دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جگہ استعمال کیا ہے جہاں کسی وقت سونگھنے کو بارود کی بو اور گولیوں کی گھن گرج کے علاوہ سننے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔
جی ہاں شمالی وزیرستان کے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں نہ یہ طریقہ اپناعلاج کرنے کیلئے استعمال کیا ہے مریضوں کیلئے نہیں۔مریض ڈاکٹروں اور طبی عملے کی راہیں دیکھتے رہے ڈاکٹر اور طبی عملہ رات بھر ڈانس پارٹی انجوائے کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں تھیلیسمیا سے بچاؤ کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے

یہ کسی شادی پر ڈانس پارٹی کا منظر نہیں بلکہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ کا سرکاری ہسپتال ہے،میرانشاہ کے ایجنسی ہیڈکوارٹر اسپتال میں رات بھر چلے ٹھمکے، ڈانس پارٹی کا اہتمام بھی کسی اور نے نہیں بلکہ خود محکمہ صحت کی انتظامیہ نے کیاتھا۔
موسیقی پر خواجہ سرا اور لڑکے خوب تھرکے اور ٹھمکے بھی لگائے، ارد گرد کھڑے تماشائی بھی جھوم جھوم کر نوٹ نچھاور کرتے رہے،ہسپتال جہاں مکمل خاموشی ہونی چاہئے، ساری رات اونچی آواز میں میوزک بجتا رہا،شور شرابے سے مریض بھی ساری رات رہے پریشان،ڈاکٹرز اور طبی عملہ موج مستی میں مگن رہا۔

یہ بھی پڑھیں:میانوالی کا پولیوزدہ وکیل،ہمت،حوصلہ اور علم کی خوبصورت مثال

اتمانزئی مشران نے ڈانس پارٹی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، مشران نے ایم ایس ڈاکٹر حمید اللہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی ایسا پروگرام کرایا تھا، گورنر اور کور کمانڈر سے مطالبہ ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیں، اور ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کی جائے۔