صحافی کے سوالات پر امریکی صدر غصہ میں آگئے

صحافی کے سوالات پر امریکی صدر غصہ میں آگئے


واشنگٹن( 24نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اگلے دو برسوں میں بھی ملک کیلئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے،جن کیلئے ہم نے بہت اچھی مہم چلائی وہ سارے امیدوار جیت گئے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایوان نمائندگا ن  نے میرے خلاف تحقیقات کیں توہم کسی ڈیل میں اشتراک نہیں کرینگے،اب وقت ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر کام کریں،ری پبلکنز نے ملک کی گورنرشپ پر بھی برتری حاصل کر لی ہے۔


پریس کانفرنس کے دوران صحافی صحافیوں سے الجھتے رہے، روسی مداخلت سے متعلق سوال پر سی این این کے صحافی کو”عوام کا دشمن“قرار دے دیا، وائٹ ہاﺅس میں عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا نے امریکی صدر سے روسی مداخلت کا سوال شروع ہی کیا تھا کہ امریکی صدر سیخ پا ہو گئے اور کہا کہ تم بدتمیز اور گھٹیا شخص ہو اور عوام کے دشمن بھی ہو۔امریکی صدر نے کہا میرے خیال میں مجھے ملک چلانے دیا جائے آپ سی این این چلائیں، یہی بہتر ہوگا،امریکی صدر نے سی این این کے رپورٹر کو بیٹھنے کا کہا لیکن رپورٹر نے اپنا سوال جاری رکھا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید طیش آگیا۔ڈونلڈٹر مپ نے قدرے غصے میں کہا کہ بس بہت ہوگیا، بس بہت ہوگیا، بیٹھ جاﺅ۔تاہم جم اکوسٹا نے امریکی صدر کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر اگلا سوال پوچھا کہ کیا آپ کو روسی مداخلت پر تشویش ہے۔جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ چاہتے ہوئے جواب دیا کہ میں کسی روسی مداخلت کو نہیں مانتا، یہ سب افواہ ہے۔
اسی دوران رپورٹر نے دوبارہ وضاحت چاہی تو ڈونلڈٹرمپ پھر طیش میں آگئے اور کہا بس بہت ہوگیا،بیٹھ جاﺅ، مائیک بند کرو لیکن رپورٹر نے اپنا سوال جاری رکھا تو ڈونلڈٹرمپ پریس کانفرنس چھوڑ کر جانے لگے جس پر میزبان خاتون نے رپورٹر سے مائیکروفون لے لیا۔


ڈونلڈٹرمپ واپس روسٹرم پر آئے اور کہا کہ امریکی چینل کے لیے شرمناک ہے کہ تم جیسے رپورٹرز رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تم بہت بدتمیز شخص ہو تمہیں سی این این میں کام نہیں کرنا چاہیے۔امریکی صدر کے تضحیک آمیز جملے پر رپورٹر نے کھڑے ہو کر اپنی بات کرنی چاہی تو ڈونلڈٹرمپ نے مزید کہا تم غلط خبریں دیتے ہو تمہارا چینل چلتا ہے ، تم لوگوں کے دشمن ہو۔

امریکی مڈٹرم الیکشن میں اب تک کے نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 220اور رپبلکنز کو 193 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جس کے بعد وہ صدر ٹرمپ کی قانون سازی پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔