پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا پیپلزپارٹی ،ن لیگی ارکان کو مولانا کے ہاتھ پر بیعت کا مشورہ

پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا پیپلزپارٹی ،ن لیگی ارکان کو مولانا کے ہاتھ پر بیعت کا مشورہ


اسلام آباد(روزینہ علی)قائد ایوان شبلی فراز نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ پر بیعت لینے کا مشورہ دے دیا، شبلی فراز کے ریمارکس پر ایوان میں شور شرابہ، اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، اپوزیشن احتجاج کے باوجود شبلی فراز نے الفاظ پر معذرت اور الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ اجلاس ہوا، اجلاس ایک بار پھر نوک جھونک تلخ کلامی اور تو تکرار کی نظر ہوگیا، سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان شبلی فراز نے اپوزیشن پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب کوئی لیڈر کرپشن میں پکڑا جائے،تو جمہوریت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں،جس پر لیگی سینیٹر پرویز رشید نے احتجاج کیا، شبلی فراز اور پرویز رشید کی تو تکرار میں قائد ایوان نے پرویز رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے آپکو خدا سمجھتے ہیں،اقتدار اس لئے نہیں ہے کہ آپ ملک کی جڑیں کاٹیں،جب کوئی سیاسی رہنما گرفتار ہوتاہے تو کہتے ہیں سیاسی انتقام ہے،نیب اور احتساب کے ادارے ہم نے نہیں بنائے،اگر نیب کالا قانون ہے تو آپ نے بدلا کیوں نہیں،دس سال آپ نے کیا کیا، اگر سیاسی انتقام ہے تو انسانی حقوق کمیٹی میں معاملہ اٹھائیں۔

شبلی فراز نے مولانا فیض محمد کو مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا طعنہ دیا، اور اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لبرل کا دعویٰ کرنے والے مولانا کے پیچھے کھڑے ہیں ،پیپلز پارٹی والے مولانا کی بیعت لیں اور ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا نام نہ لیں، شبلی فراز کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی سینیٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ شبلی فراز اپنے الفاظ واپس لیں۔

شبلی فراز نے تقریر کر کے ماحول کو پراگندہ کر دیا: راجہ محمد ظفرالحق

اپوزیشن لیڈر راجہ محمد ظفرالحق نے قائد ایوان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریر کر کے ماحول کو پراگندہ کر دیا،یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں، مولانا صاحب کوئی مذہبی بات کریں تو کہتے ہیں مذہبی کارڈ ہے، یہ جو دن رات مدینہ ریاست کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں،شبلی فراز نے الفاظ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں، اپوزیشن نے احتجاجاً شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا، اجلاس میں کورم نامکمل ہونے پر ایوان بالا کی کاروائی پیر سہہ پہر ساڑھے تین بجے تک ملتوی کی گئی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer