قرضے پہ قرضے،حکومت نے رفتار پکڑ لی

قرضے پہ قرضے،حکومت نے رفتار پکڑ لی


اسلام آباد( 24نیوز )اقتدار کے آخری سال وفاقی حکومت کی قرض لینے کی رفتار تیز ہو گئی،، رواں مالی سال گزشتہ سال سے اوسط 87 فیصد زیادہ قرض لیا،مجموعی قرضے 229 کھرب 6 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

حکومت نے رواں مالی سال کے دوران اب تک اخراجات پورے کرنے کے لیے اوسط ہر ماہ 267 ارب 30 کروڑ روپے قرض لیا،، جبکہ گزشتہ مالی سال ہر ماہ اوسطا 143 ارب 70 کروڑ روپے قرض لیا گیا تھا،، اسٹیٹ بینک کے مطابق 8 ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 21 کھرب 38 ارب روپے کے نئے قرضے لیے،، جس سے فروری کے اختتام تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا مجموعی حجم 229 کھرب 6 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

اس دوران اندرونی قرضے 11 کھرب روپے کے اضافے سے 159 کھرب 48 ارب 30 کروڑ روپے،، جبکہ بیرونی قرضے 10 کھرب 39 ارب روپے کے اضافے سے 69 کھرب 57 ارب 70 کروڑ روپے کے ہو گئے،، ایک سال کے دوران اندرونی قرضوں میں 8.2 فیصد،، اور بیرونی قرضوں میں 26.5 فیصد اضافہ ہوا،، مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے دور میں اب تک وفاقی حکومت کے قرضوں میں 69.5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت بھی پیچھے نہیں رہی اس کے قرضوں سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نے صرف تین منصوبوں کے لیے 99 ارب 47 کروڑ 50 لاکھ روپے قرض لیا ہے جو بس ریپڈ ٹرانزٹ، توانائی اور آبپاشی منصوبوں کے لیے لیا گیا جب کہ بس منصوبے کے لیے 41 ارب 88 کروڑ سے زائد کا قرض لیا گیا ہے۔

’’ملک میں بے یقینی کی صورتحال ہے‘‘

دستاویزات کے مطابق یہ قرضے ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، سعودی اور فرانسیسی اداروں سے لیے گئے ہیں جن کی ادائیگی 20 سے 38 سال کے دوران کی جائے گی جب کہ قرضوں پر مارک اپ اعشاریہ 6 سے 2 فیصد ہے۔

مالیاتی اداروں نے دیگر 10 منصوبوں کے لیے بھی ایک کھرب 83 ارب روپے کے قرضے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، یہ قرضے سڑکوں کی مرمت، زراعت، سیاحت، توانائی اور پینے کے صاف پانی کے لیے ہیں۔