اپوزیشن اتحادیوں نے نگران وزیراعظم کیلئے کوئی نام نہیں دیا: خورشید شاہ

اپوزیشن اتحادیوں نے نگران وزیراعظم کیلئے کوئی نام نہیں دیا: خورشید شاہ


اسلام آباد(24نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ابھی تک اپوزیشن کے اتحادیوں نے نگران وزیراعظم کے لیے کوئی نام نہیں دیا۔ وزیراعظم سے بدھ کو نگران وزیراعظم کے معاملہ پر ملاقات ہو گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف بی بی کی وجہ سے 10 سال کی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئے۔ نواز شریف کی شہید بی بی سے لڑائی بنتی نہیں ہے۔ نئے ائیرپورٹ کا نام بے نظیر کے نام سے منسلک کرنا چاہیے۔ ائیر پورٹ کا نام بے نظیر کے نام سے منصوب نہ کیا تو سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا۔خورشید شاہ کہتے ہیں پی آئی اے کا فلیگ کریئر تبدیل کرنے پر افسوس ہے۔ ڈھائی ارب لوگو کی تبدیلی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ مارخور صرف پاکستان میں نہیں اور ممالک میں بھی ہیں۔ لوگو کی تبدیلی سے ایک سے ڈیڑھ ارب روپے کمیشن ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ن لیگ کے 8 ارکان اسمبلی مستعفی، نئے ’محاذ‘ کا اعلان

  اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک اپوزیشن کے اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم کے لیے کوئی نام نہیں دیا اور نہ این کی اپنی پارٹی نے اس ضمن میں کچھ فائینل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اجلاس کے بعد نام سامنے آئیں گے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات کا انحسار نگران وزیراعظم پر ہو گا اور اس لئے کو شش کی جا رہیہے کہ اچھے لوگ سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں’’ملک میں بے یقینی کی صورتحال ہے‘‘

  تایا کہ نگران حکومت کے لئے وہ مئی کے پہلے ہفتے میہں باضابطہ مشاورت کریں گے۔ خورشید شاہ نے اعلان کیا کہ اگ اسلام آباد کے نئے ہوائی اڈے کوبینظیر بھٹو سے منسوب نہ کیا گیا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ خورشید شاہ کا کہنا تاھ کہ پی پی پی نے 2013 کے الیکشن کو آر اوز کا الیکشن کہہ کر تسلیم کیا اور 2014 میں یلغار کے موقع پر آگے کھڑے ہوئے۔

خورشید شاہ بولے کہ اگر وزیراعظم چیئرمین سینیٹ کو نہیں مانتا تو وہ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ اپنی ایک احتساب کمیٹی بنائے۔ وہ سب سے بڑی کمیٹی ثابت ہو گی جو سیاستدانوں کا احتساب کرے گی۔