پولیس معصوم جانوں کیلئےخطرہ بن گئی

پولیس معصوم جانوں کیلئےخطرہ بن گئی


فیصل آباد(24نیوز)  پولیس آپے سے باہر ہوگئی، دو نوجوانوں کو ڈاکو سمجھ کر پولیس مقابلے میں مار ڈالا، طالب علموں کے لواحقین نے الائیڈ اسپتال میں ہنگامہ کھڑا کر دیا، لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا، سی پی او نے واقعے کا نوٹس لیکر انکوائری کمیٹی تشیکل دے دی۔
تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں پولیس نے اپنے ہی پیٹی بھائی کے بیٹے کی جان لے لی۔ ساتھ میں اس کا دوست بھی مار ڈالا۔ تھانہ ملت ٹاؤن کے علاقہ میں رات گئے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے دو نوجوانوں کے ورثا نے پولیس گردی کے واقعے کیخلاف احتجاج کیا۔مظاہرین نے الائیڈ موڑ ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں۔۔۔24نیوز مقتول باپ کی بیٹی کی آواز بن گیا 

  پولیس کے مطابق دونوں نوجوان موٹرسائیکل پر سوار تھے۔انہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ نہ رکے جس پر پولیس نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے ارسلان موقع پر ہی دم توڑ گیا۔عثمان کو زخمی حالت میں الائیڈ اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ بھی جانبر نہ ہوسکا۔ عثمان پولیس کانسٹیبل کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔  پولیس نے موقف اختیار کیا کہ نوجوانوں نے فائرنگ کی، پولیس کی کارروائی جوابی تھی۔

یہ خبر بھی پڑھیں۔۔۔لاہور: 5 افراد کے قتل کا معاملہ، ورثا کا پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج 

 نوجوانوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار نشے کی حالت میں تھے جب انہوں نے فائرنگ کی۔ دونوں نوجوان میٹرک کے طالب علم تھے۔ ورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ سی پی او اشفاق خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔