ایم کیو ایم میں ایک اور مائنس ون کا امکان بڑھ گیا

ایم کیو ایم میں ایک اور مائنس ون کا امکان بڑھ گیا


کراچی (24 نیوز) ایک جماعت ایک قائد پھر بھی متحدہ کا شیرازہ بکھر گیا، ایم کیو ایم میں ایک اور مائنس ون کا امکان بڑھ گیا، ہیپی اینڈنگ کے امکانات بھی دم توڑنے لگے۔

سیاسی فیصلے ہوں یا جوڑ جوڑ توڑ، ایک وقت تھا جب تمام فیصلے نائن زیرو پر ہوتے ہیں، تمام معاملات لندن میں طے ہوتے تھے، وقت آیا کہ متحدہ کا شیرازہ بکھر گیا۔ بائیس اگست دو ہزار سولہ، ایم کیو ایم میں ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔ مگر ڈاکٹر فاروق ستار نے متحدہ کو دوبارہ زندہ کیا اور ریاستی اداروں کے ساتھ چلنے کا عہدو پیماں کیا۔

وہ دن بھی آگیا جب فاروق ستار نے پارٹی کے قائد سے لاتعلقی کی اور خود پارٹی کی کمان سنبھالی۔ قائد تبدیل ہوا مرکز بھی تبدیل ہوگیا اور ایم کیوایم کا مرکز پی آئی بی قرار پایا۔ پی آئی بی سے ایم کیو ایم بہادر آباد آگئی اور تمام تر تنظیمی معاملات اسی دفتر سے ہونے لگے۔

سینٹ کی سیٹوں پر ایم کیو ایم ایک بار پھر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ کارکنوں نے پی آئی بی کو تو کچھ نے بہادر آباد کو مرکز تسلیم کئے رکھا۔ پی آئی بی سے بہادر آباد کا فاصلہ مشکل سے پندرہ سے بیس منٹ کا ہے، مگر موجودہ صورتحال کے بعد دونوں طرف بیٹھے رہنماﺅں کے درمیان فاصلہ کئی میلوں دور تک طویل ہو گیا۔