" عمران صاحب آپ کے گھبرانے کا وقت ہواچاہتا ہے"



لاہور( 24نیوز ) مریم اورنگزیب نے مسلم لیگ ن کے صدر  شہباز شریف کی وطن واپسی پہ مخالفین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ عمران صاحب شہباز شریف کا طیارہ لاہور علامہ اقبال ائیرپورٹ پر اُتر گیا ہے ، آپ کے گھبرانے کا وقت ہوا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر  شہباز شریف2ماہ قیام کے بعدلندن سے وطن واپس پہنچ گئے،وہ  پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے،  ائیرپورٹ پرلیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے والہانہ استقبال کیا،پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں، شہباز شریف ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتےرہے، بعد ازاں ائیرپورٹ سے قافلے کی صورت میں ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ پرپہنچے، ان کی وطن واپسی پر  مریم اورنگزیب نے مخالفین کو تنقید کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا،وزیراعظم عمران خان سے مخاطب ہوئے ہوئے ان کا کہناتھاکہ عمران صاحب شہباز شریف کا طیارہ لاہور علامہ اقبال ائیرپورٹ پر اُتر گیا ہے، آپ کے گھبرانے کا وقت ہوا جاتا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران صاحب شہباز شریف واپس آ گئے ہیں ، اب آپ کی ڈھیل کا وقت ختم ہوا جاتا ہے، آپ شہباز شریف کے آنے کے خوف سے پہاڑوں میں چھُپ گئے ہیں اور آپ کے ترجمانوں کو سانپ سونگھ گیا ہے، عمران صاحب آپ کے پچاس کرائے کے ترجمان کیا کریں گے ؟ آپ اب جھوٹوں سے اور مصنوعی بیانیہ سے عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے ، بہت ہو گیا تمام جھوٹے کرائے کے ترجمانوں میں اگر تھوڑی سی بھی شرم ہے تو رضا کارانہ استعفیٰ دے دیں جسطرح ہی شہباز شریف کا طیارہ پاکستان حدود میں داخل ہوا جھوٹے کرائے کہ ترجمانوں پہ سکتا طاری ہو گیا کہ آقا کو کیا جواب دیں گے۔

ان کا مزید کہناتھا کہ شہباز شریف ملک سنوارنے والوں میں سے ہیں ، اور پاکستان کی عوام شہباز شریف سے محبت کرتی ہے، عمران صاحب بھاگنے اور چُھپنے کا آپ کا وقت ہے ، خلقِ خُدا کے صبر سے ڈریں، عمران خان کوشہباز شریف کے آنے کا اتنا خوف کہ وزیراعظم ہاؤس ہی چھوڑ گئے،عید کی نماز پڑھتے ہی شہباز شریف کے آنے کے خوف سے سرکاری ہیلی کاپٹر پہ نتھیا گلی جا کر پہاڑوں میں چھپ گئے ہیں، عمران صاحب نتھیا گلی میں گورنر ہاؤس ہیں اور یہاں آئی ایم ایف22 کڑوڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ کر رہا ہے.

مریم اورنگزیب نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس تو یونیورسٹی بننے تھے ، دیواریں گرنی تھیں ،ہوٹل بننے تھے اور اُس پیسوں سے ملکی قرضہ اور غربت ختم ہونی تھی، کیا ہوا؟عمران صاحب کنٹینر پر گورنر ہاؤس میں وزیراعظم کے رہنے پہ بھاشن اور خود گورنر ہاؤس میں مزے ؟ پچھلے پانچ دنوں میں ٹیکس کا کتنا پیسہ جو سکول اور ہسپتال بنانے پہ لگنا تھا وہ آپ پہ لگا ہے،واپس آ جائیں اور تیاری کریں آپ نے شہباز شریف کو اپنی نالائقی اور نااہلی کے بڑے جواب دینے ہیں۔