مشرف کا بیان ویڈیو لنک سے ریکارڈ کرنے پر تحریری جواب طلب

مشرف کا بیان ویڈیو لنک سے ریکارڈ کرنے پر تحریری جواب طلب


اسلام آباد( 24نیوز ) سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے مقدمے میں ملزم کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے پر ان کے وکیل اور استغاثہ سے تحریری جواب طلب کرلیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت خصوصی عدالت میں جسٹس یاور علی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، جبکہ سابق صدر کی جانب سے نئے وکیل پیش ہوئے، سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پہلے اس مقدمے میں فروغ نسیم اور ان کی ٹیم مشرف کے دفاع میں پیش ہو رہی تھی، اب میں انکی وکالت کروں گا، وکیل نے کہا کہ مشرف مفرور نہیں، ان کے پیش نہ ہونے وجہ طبی ہے، اور ان کی بیماری پیچیدہ ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ بیماری کی طبی رپورٹ جلد سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی، تاہم جنہوں نے یہ مقدمہ بنایا انہوں نے ہی بعد میں ملک سے جانے کی اجازت دی تھی۔

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق ملزم کا بیان عدالت میں ہی ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، جواب میں جسٹس یاور علی نے  وکیل سے پوچھا کہ، کیا ملزم اسکائپ کے ذریعے بیان دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟  جس پر وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ اس کا جواب مشرف سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں، اس کیس میں اپنے دفاع میں سینکڑوں گواہ پیش کرنا چاہیں گے، کیس کو آگے بڑھانے کیلئے قانون کو دیکھنا ہوگا۔ استغاثہ کے وکیل نصیرالدین کاکہنا تھا کہ ہمیں اسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے پر اعتراض ہو سکتا ہے، ملزم قانون سے مفرور ہے اسے سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی۔

تاہم عدالت نے پرویز مشرف کے نئے وکیل کو اجازت دی تو انہوں نے استدعا کی کہ دو تین ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ مقدمے کی فائلیں پڑھ کر آگاہی حاصل کر سکوں، خصوصی عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے مشرف کے وکیل کو اسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی، عدالت نے استغاثہ کو بھی اپنے اعتراضات تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔