ن لیگ چھوڑنے والے ڈکٹیٹر کے ساتھی تھے: نواز شریف


اسلام آباد( 24نیوز ) نواز شریف نے کا  ہے کہ پارٹی چھوڑکرجانے والوں پرضرور کچھ وارد ہوا ہے تاہم ان افراد کا تعلق (ن) لیگ سے نہیں تھا،جنہوں نے میری صدارت کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہ لوگ ہماری نظرمیں تھے اور ایسے لوگ سیاست کو بدنام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا آنا جانالگا رہتا ہے۔ ایسے لوگ ڈکٹیٹرکے دور میں آمر اور جمہوری دور میں جمہوری لوگوں سے مل جاتے ہیں۔

کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئےسابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کے دلوں میں جنوبی پنجاب صوبے کی محبت جاگ اٹھی۔ شہباز شریف کی قیادت میں جنوبی پنجاب کی ترقی قابل ستائش ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگ مسلم لیگ (ن) سے اتنے ہی مطمئن ہیں جتنے سینٹرل اور اپر پنجاب کے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا حالیہ منظر لودھراں کا الیکشن ہے۔ لودھراں کے الیکشن میں 180 ڈگری کا ٹرن آیا تھا، لودھراں میں عوام نے مسلم لیگ (ن) کے ایک غیر معروف امیدوار کو جتوایا جب کہ پنجاب میں9 نشستیں کم ہوئیں لیکن ہم نے اس کو مسئلہ نہیں بنایا۔

یہ بھی پڑھئے:چیف جسٹس نے بلوچستان حکومت کو ناکام قرار دے دیا

نواز شریف نے کہا کہ عمران خان جیسے بندے کا سیاست میں آنا کوئی نیک شگون نہیں، جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کی وہ نیب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں جب کہ جنہوں نے کرپشن کی اور ملک کا پیسہ لوٹا وہ ملک کی سیر کرتے پھر رہے ہیں، میں بھی انسان ہوں سوچتا اور محسوس کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:ن لیگ کے 8 ارکان اسمبلی مستعفی، نئے ’محاذ‘ کا اعلان

قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کا بہت بڑا ایشو ہے، کسی کو لاپتہ کر دینا بہت بڑا جرم ہے، کیا لاپتہ افراد کے والدین اور بچوں کی زندگی سکون سے گزرے گی، ان پر کیا گزرتی ہوگی جنہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یانہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرامید ہیں کہ الیکشن میں صرف شیر کو ووٹ پڑے گا۔