پولیس افسران خواتین اہلکاروں کی عزتوں سے کھیلنے لگے، چیف جسٹس ، آئی جی کو خط

پولیس افسران خواتین اہلکاروں کی عزتوں سے کھیلنے لگے، چیف جسٹس ، آئی جی کو خط


اسلام آباد ( 24نیوز )ساتھی پولیس اہلکارہی عصمتوں کے درپے ہوگئے،نوکری کی خاطر درندے جسموں سے کھیلتے ہیں،انصاف کی دہائی دیتی مجبور لیڈی پولیس اہلکارچیف جسٹس اورآئی جی اسلام آبادکولکھے خط میں روپڑی۔
جب انسان نما بھیڑیے ہی پولیس کی وردی میں ہوں توحواکی بیٹی کی عزت کی حفاظت کون کریگا۔کسے پتا تھاپولیس لائن میں حفاظت کرنے والے ہی عصمتوں کے درپے ہوجائیں گے۔جی ہاں خوفناک انکشاف ہواہے کہ پولیس لائن اسلام آبادمیں لیڈی اہلکاروں کونوکری کی خاطر جسموں کاسوداکرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔
ہوس کے پجاریوں کے ہاتھوں لٹنے والی لیڈی پولیس اہلکاروں  چیف جسٹس اورآئی جی کومددکے لیے پکارلیا۔خودپربیتے جسمانی ظلموں پرسے پردہ اٹھاتی ان حواکی بیٹیوں کے دکھوں کامداواکون کریگا۔

یہ بھی پڑھئے:نواز شریف ایک بار پھر سہانے خواب دیکھنے لگے
آئی جی اسلام آبادکولکھے خط کی تحریرپڑھ کردل خون کے آنسورو پڑتاہے۔بے نامی خط میں خواتین اہلکاروں نے چیخ چیخ کرحکام سے مددطلب کرتے ہوئے بتایاافسرکے آگے کسی بھی پیشی سے پہلے ریڈروں اورآپریٹروں کی ہوس کانشانہ بنناپڑتاہے۔اکیلے کمروں میں بلاکرغیراخلاقی سرگرمیوں پرمجبورکیا جاتاہے۔انصاف برائے حوا کی بیٹی میں آگے درج ہے ہمیں روزانہ کئی کتوں کاسامنا کرناپڑتاہے۔ان کاکہناہے ڈی ایس پی سے لے کرایس ایس پی تک جب بھی کوئی پیشی ہوتوریڈراورآپریٹرہمیں ایک مخصوص جگہ بتاتے ہیں کہ یہاں آجاؤ۔ہم آپ کاکام بغیر پیشی کے کروادیں گے۔اورہمیں مجبوراََ ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ظلم کامزید احوال بتاتی ہیں کہ آپ کے ہیڈکوارٹرز میں ڈی ایس پی اور اس کے ریڈراورآپریٹروں نے الگ الگ کمرے تیارکررکھے ہیں۔جہاں پرہمارے اعمال ناموں کی سماعت اپنی عزت دے کرہوتی ہے۔


ان مجبوراوردکھیاریوں نے بتایاکہ ان کے پاس لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلتے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرزکچھ ریڈراورآپریٹروں کی ویڈیوزبھی ہیں لیکن یہ ویڈیوزوہ صرف چیف جسٹس کوہی پیش کریں گی۔خط میں آئی جی سے درخواست کی گئی لیڈیزاہلکاروں کے لیے اسپیشل خاتون آفیسرہی تعینات کی جائے۔اورمنت کی گئی ہے کہ کالی اورگندی بھیڑوں کوپولیس لائن سے نکالیں اورہمیں انصاف دیں۔
آئی جی اسلام آبادکے نوٹس پرانکوائری توشروع ہوگئی جس کے نتیجے میں 3اہلکاربھی معطل کردیے گئے ہیں۔جبکہ مزید انکوائری جاری ہے۔