سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات بحرین کے وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کیلئے کوشاں

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات بحرین کے وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کیلئے کوشاں


منامہ (24نیوز) سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بحرین کے وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کی کو شش کر رہے ہیں۔

ایک نئی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بحرین کے وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان ال خلیفہ دنیا کے سب سے طویل حکومت کو ختم کرنا چاہ رہی ہے.جبکہ علاقہ کے بڑے رہنما خلیفہ، نوجوانوں، یعنی سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اور ابو ظہبی کے شہزادہ محمد بن زید الہانان، بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کے حامی ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالزیز الاسد اور ، سلمان بن عبدالزیز ال سعود نے خلیفہ کی حمایت کی۔سعوسی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے خلیفہ کو ہٹانے پر اعتراض کیا تھا اور ان کے ساتھ شاہ سلمان اور امیر کویت نے بھی کہا کہ اچھا بندہ صحیح جگہ پہ ہے۔ تاہم محمد بن سلمان نے اس معاملے سے ہر قسم کی لا تعلقی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ،ان ملاقات کہاں ہوگی؟پتہ چل گیا

یہ ممکن ہے کہ بن سلمان ، بن زید کو مطمئن کرنے کے لئے وزیراعظم کو ہٹا نہ دیں، جو بحرین کے حالات کو بحال کرنے کے خواہاں ہیں، ذرائع نے مزید کہا کہ بن زید کو بحرین میں زیادہ اثر و رسوخ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بادشاہ حماد نے قریبی دوست اور اتحادی کی طرح سات دیا۔دریں اثنا، غیر ملکی اخبار نے رپورٹ کیا کہ بحرین کے بادشاہ اس سال ہونے والے انتخابات کے بعد وزیراعظم کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے.

لندن میں رہنے والے بحرین کے صحافی عادل مارزق نے اس بات کی تصدیق کی کہ بحرین کی طاقت کے ہالوں میں "تشدد اور غیر ذمہ دارانہ" تنازعہ "مذاق نہیں ہے. یہ واقعی ایک سنجیدہ ترقی ہے.انہوں نے کہا کہ موجودہ علامات سے پتہ چلتا ہے کہ سال کے اختتام پر پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیراعظم کی حیثیت میں تاریخی تبدیلی آنے والی ہے۔تاہم فیصلے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس پر اتفاق بھی نہیںہوا ابھی تک، اس نے مزید کہا کہ اس حوالے سے سعودی اور عرب عمارات کو باہمی مشاورت کی اشد ضرورت ہے.انھوں نے مزید کہا کہ بن سلمان اور بن زید " بحرین کے وزیر اعظم کو برقرار رکھنے میں کوئی خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتے.

پڑھنا مت بھولیں: خوشخبری! حکومت کا ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنیکا اعلان

خلیفہ نے بحرین کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمت کی ہے کیونکہ جزیرے نے 1971 میں برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا جب ایران کے سابق شاہ نے چھوٹے پارسی جزیرے کی خود مختاری کی حمایت کی تھی.اس مہینے کے آغاز میں بن سلمان اور بن زید نے جدہ میں اماراتی کوارڈینیشن کونسل میں پہلی مرتبہ ملاقات کی تھی۔

سعودی عرب اور امارات پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی خلیجی ممالک پر اپنی جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے اقتدار پر قابو پانا چاہتے ہیں۔دونوں ممالک یمن کے جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھی ہیں اور قطر کے تمام معاملات میں بھی شریک ہیں۔ حال ہی میں اومان نے الزام عاید کیا کہ ہم متحدہ امارات کی خلاف ورزیوں کے باوجود صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں۔

فروری 2011 کے بعد سے بحرین کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر پر امن احتجاج او مظاہرے کرتے رہیں کے خلیفہ اور اسکے خاندان نے اپنے طاقت کی بنیاد پر بحرین میں ایک ہی نظام قائم کیا ہوا ہے۔ بحرین کے عوام نے شیعہ اکثریت کے خلاف وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کئے جانے کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔