سپریم کورٹ کا شریف خاندان کیخلاف ٹرائل کی مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ


لاہور (24نیوز) سپریم کورٹ نے احتسا ب عدالت کو ایک ماہ میں شریف فیملی کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت میں  نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پیش ہوئے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے درخواست کی کہ 6 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا وقت دیا جائے جسے عدالت نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب ان کیسز کا فیصلہ ہونا چاہیے، ملزمان کے ساتھ ساتھ قوم بھی ذہنی اذیت کا شکار ہورہی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ احتساب عدالت اب ہفتے کے روز بھی تینوں ریفرنسز کی سماعت کرے گی جس پر خواجہ حارث نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ ابھی جوان ہیں، میں بوڑھا ہو کر اتوار کو بھی سماعتیں کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کیخلاف تحقیقات کیلئے نیب نے مزید وقت مانگ لیا 

چیف جسٹس نے کہا نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم کی عیادت کے لیے جانا چاہتے ہیں تو جاسکتے ہیں، آپ تشہیر کے لیے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ آپ ہمیں تاریخ بتائیں کب جائیں گے اور کب واپس آئیں گے۔

سپریم کورٹ نے احتسا ب عدالت کو ایک ماہ میں شریف فیملی کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ احتسا ب عدالت کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی، خواجہ حارث کی 6 ہفتوں کی استدعا مسترد کردی گئی۔

 

 

 

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔