ریکارڈ پہ ریکارڈ، حکومت نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے

ریکارڈ پہ ریکارڈ، حکومت نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے


اسلام آباد(24 نیوز) پی ٹی آئی حکومت کے پہلے مالی سال اقتصادی طورپرکوئی بہتری نہ ہوسکی لیکن متعدد نئے ریکارڈ ضرور بن گئے۔

 رواں مالی سال ملک کی اقتصادی صورتحال تو بہترنہ ہوئی لیکن حکومت نے نئے رکارڈ بنا دئیے، رواں مالی سال کے نو ماہ میں پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجبات میں مجموعی طور پر 10ارب 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ رکارڈ ہوا جوکم عرصے میں زیادہ قرض لینے کا نیا رکارڈ ہے،بیرونی قرضوں کا حجم 105 ارب 85 کروڑڈالر کی بلندترین سطح پرپہنچ گیا۔

نوماہ میں پاکستان کے مجموعی قرضےبھی جی ڈی پی کے 91.2 فیصد کی بلند ترین سطح پرپہنچے، قرضوں اورواجبات کامجموعی حجم17کھرب 54 ارب روپےاضافےسے350 کھرب 95 ارب روپے کی رکارڈ سطح پرپہنچ گیا،نئے قرضوں سے9 ماہ میں ہرشہری پراوسط 26 ہزارروپے کےقرض کا اضافہ ہواجس سے اب ہر شہری1لاکھ 69 ہزارروپےکامقروض ہوگیا۔

مالی سال کے ساڑھے10ماہ میں حکومت نے568ارب68کروڑروپےمالیت کےنئےنوٹ جاری کیےجو رکارڈ ہے،زیرگردش نوٹوں کی مالیت ملکی تریخ میں پہلی بار52 کھرب 58 ارب6 کروڑروپے کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔

اب تک ڈالرکےمقابلے میں روپے کی قدرساڑھے23 فیصد سے زائد کم ہوچکی ہے،سوا گیارہ ماہ میں ڈالر کی قدر28روپے61 پیسےاضافےسے 150روپے10پیسے ہوگئی،یورو28 روپے مہنگاہوکر169روپے64 پیسے اوربرطانوی پاونڈ30 روپے60 پیسے مہنگاہوکر190روپے52پیسےکاہوگیا،پی ٹی آئی حکومت کےپہلےسال پاکستان میں صنعتی سیکٹراوراسٹاک مارکیٹ میں غیرملکی سرمایہ کاری میں 64 فیصد کمی ہوئی۔

Malik Sultan Awan

Content Writer