شہر قائد کی صدا کون سنے گا؟

شہر قائد کی صدا کون سنے گا؟


کراچی (24نیوز) لوڈ شیڈنگ کا جن کے الیکٹرک کے قابو سے باہر ہوگیا، بن قاسم پاور پلانٹ میں فنی خرابی 7 روز گزر گئے، ترجمان کے الیکٹرک کہتے ہیں، فنی خرابی ٹھیک ہونے میں مزید دو سے تین روز لگ سکتے ہیں، مختلف علاقوں میں دس سے 14 گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کی جان عذاب میں آگئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بن قاسم پاور پلانٹ کے ایک یونٹ کی فنی خرابی 7 روز گزرجانے کے باوجود دور نہ کی جاسکی۔ 200 میگاوآٹ کا اضافی شاٹ فال برقرارہے۔ کورنگی ، لیاری، ملیر، مضافاتی علاقوں سمیت ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں 10 سے 14 گھنٹے کی بد ترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ جس سے شہری تنگ آگئے ہیں۔

کےالیکٹرک ترجمان کے مطابق فنی خرابی کو دور کرنے میں مزید تین روز لگ سکتے ہیں۔ شہریوں نے اپیل کی ہے کہ رمضان آنے والے ہیں  شہر کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے۔

علاوہ ازیں کراچی کی شدید گرمی نے شہریوں کو پہناوے بدلنے پر مضبور کر دیا ہے۔سیاہ، سبز، نیلے اور سفید رنگ کے چشمے جہاں دھوپ کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہیں فیشن کے تقاضوں پر بھی پورا اترتے ہیں۔ گرمی کے ستاے شہریوں نے سڑک کنارے لگی چشموں اور ٹوپیوں کی دکانوں کا رخ کرلیا۔

واضح رہے کہ ہر کوئی اپنا من پسند چشمہ اور اورگرمی سے بچاؤ کے لئے کیپ کا انتخاب کرتاہے۔سڑک کنارے لگے سستے سٹال عام لوگوں کے لئے نعمت سے کم نہیں ہیں۔ گرمی سے بچاؤ کے لئے رنگ برنگی ٹوپیوں کے ساتھ اب گرمیوں کے مفلر بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ کچھ نوجوان اسے سرپر باندھتے ہیں توبعض گلے میں لٹکا کرسفرکرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ سفر کے دوران دھوپ بہت نقصان پہنچاتی ہے اور اس سے بچاو کے لئے احتیاطی تدابیر بھی لازم ہوتی ہیں ۔

دوسری جانب شہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز ہوا تو کے الیکٹرک کے فیڈر ٹرپ کر گئے۔ بن قاسم پاور پلانٹ سے شہر کو 200میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ۔ شہر کا درجہ حرارت تو معمول پرآ گیا لیکن تکنیکی خرابیاں تاحال کے الیکٹرک دور نہ کرسکی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے جینا دوبھر کردیا ہے۔

واضح رہے کہ شہر قائد میں لوڈشیڈنگ سے مستثنی علاقوں گلشن اقبال ، کلفٹن، بہادراباد میں بھی تین سے پانچ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع کردی گئی۔  بجلی بندش سے شہریوں کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ایک روزہ دورے کراچی پہنچے تھے۔ گورنرہاؤس میں توانائی بحران اورسی پیک حوالے سے اجلاس میں شریک ہوئے ۔اجلاس میں گورنرمحمدزبیر، وفاقی وزیر توانائی، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت عابد شیر علی، سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے تھے۔

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے گورنر ہاؤس کراچی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا تھا کہ کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس کمپنی اور وفاقی حکومت کے درمیان جو معاملہ ہے اسے 15 روز میں حل کرنا ہے۔ گیس کی فراہمی ملے گی تو مسائل حل ہوجائیں گے۔ کے الیکٹرک کا مسئلہ حل کردیا ہے باقی علاقوں میں 60 اور 70 فیصد بجلی چوری ہورہی ہے اس کا بوجھ پورا ملک برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:شہید ذولفقار علی بھُٹو کا ایسا کارنامہ جو ہمیشہ پاکستانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہے گا 

  انھوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ مسئلہ کے الیکٹرک اور  سوئی سدرن کا  تھا۔ وفاق کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بہرحال مسئلہ حل کردیا ہے اب کراچی والوں کو بجلی ملے گی۔  انھوں نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور کے الیکٹرک کےمعاملہ پر مفتاح اسماعیل کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔ کے الیکٹرک پرائیویٹ  کمپنی ہے اسے سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔  کے الیکٹرک نیپرا کے ٹیرف پر چلتی ہے۔ زیادہ چارج اور سر چارج نہیں کر سکتی۔ کے  الیکٹرک نےلکھ کر دیا ہے ان کے پلانٹس چل رہے ہیں  ان کو جو مسئلہ درپیش تھا وہ  گیس کی کمی پوری ہونے پر ختم ہوجائے گا۔ تاہم انھوں نے کہا تھا کہ بل کی ادائیگی ضروری ہے کیوں کہ بل کا سپلائی سے براہ راست تعلق ہے۔ وزیر اعظم کی لمبی باتوں کے باوجود بھی کرچی میں لوڈ شیڈنگ کا مسلہ جوں کا توں ہے۔

دوسری جانب شہرقائد میں بجلی کا بحران ہونے کی وجہ سے  متحدہ نے بڑا اعلان بی کیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے الیکڑک کے ظلم کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ کراچی میں فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں شہریوں کو بجلی نہ ملنے پر حکمرانوں سے سوال کیے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ شہر قائد کے باسی پانی کو ترس گئے ہیں۔اورنگی ٹاون چشتی نگر کے مکین پانی کے لئے مارے مارے پھرنے لگے۔ علاقہ مکینوں نے پانی کی عدم دستیابی پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ سندھ اسمبلی میں پانی کی قلت کے سندھ اسمبلی میں سراپا احتجاج سیف الدین خالد نے کہاتھا کہ میں ایم کیو ایم میں تھا تو ہاتھ بندھے ہوئے تھے وہ اپنے نئے سربراہ کی تعریفیں کرتے رہے۔ سیف الدین کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پانی واٹر ٹینکوں میں دینے کا کہہ تو رہی ہے مگر علاقہ میں عوامی ٹینک سرے سے موجود ہی نہیں ہیں علاقہ مکین جائیں تو جائیں کہاں۔

خیال رہے ان تمام دھرنوں،احتجاج، اور وزیر اعظم کے کراچی دورہ کے باوجود ابھی تک شہر قائد کے باسیوں کا مسلہ حل نہ ہو سکا۔ابھی بھی شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔