پاکستان کو بنجر بنانے کابھارتی منصوبہ بے نقاب

 پاکستان کو بنجر بنانے کابھارتی منصوبہ بے نقاب


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو بنجر بنانے کابھارتی منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔

بھارتی وزیر برائے آبی وسائل، ٹرانسپورٹ، شپنگ اور ہائی ویز نیتن گڈکاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب جانیوالے  دریاؤں کا پانی روکنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے اور روکا جانے والا پانی پاکستان  کے  بجائے بھارتی ریاستوں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کو دے دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی وساطت سے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر بھارت کے اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی رو سے مشرق کی جانب بہنے والے تین دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کے پانی کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا جب کہ مغربی علاقے میں بہنے والے تین دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی کا کنٹرول پاکستان کے حصے میں آیا۔

تاہم بھارتی وزیر نیتن گڈکاری کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پرامن اور دوستانہ تعلقات کے تناظر میں طے کیا گیا تھا اور بھارت اور پاکستان کے تعلقات اب ویسے نہیں رہے۔ لہذا بقول اُن کے اب بھارت پانی کی تقسیم کے اس معاہدے کا پابند نہیں رہا۔ اُنہوں نے یہ بات اپنی انتخابی مہم کے دوران امرتسر میں ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer