سائنسدانوں نے تتلیوں کا درجہ حرارت ناپنے کا پیمانہ ایجاد کرلیا

سائنسدانوں نے تتلیوں کا درجہ حرارت ناپنے کا پیمانہ ایجاد کرلیا


لندن(24 نیوز)برطانیہ میں سائنسدانوں نے تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا ہے، ایسا اس لیے نہیں کیا گیا کہ تتلوں کو بخار ہو گیا تھا۔

 کیمبرج یونیورسٹی کے تحقیق کارروں کا  خیال تھا  کہ مختلف جانور کس طرح اپنے جسم کا درجہ حرارت بڑھا یا گھٹا سکتے ہیں،محقیقینکو امید ہے کہ تتلیوں پر ہونے والی تحقیق کے نتائج حشرارت الارض کو ماحولیاتی حدت سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تتلیاں بہت نازک ہوتی ہیں لہذا ان کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے کے لیے سائنسدانوں کو بہت ہی باریک سا آلہ استعمال کرنا پڑا۔اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ نازک تتلیوں کا درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کی کوشش میں ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے، سائنسدانوں نے ایک انتہائی باریک قسم کا تھرمامیٹر تیار کیا جس کا حجم ایک چوتھائی ملی میٹرتھا۔

ماہرین تتلیوں کو ایک جال میں لا کر اس باریک آلے سے ان کے جسم کو چھوتے جس سے درجہ حرارت معلوم ہو جاتا۔تحقیق کار دو ہزار سے زیادہ تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے میں کامیاب رہے اور ان میں سے بہت سی مختلف اقسام تھیں۔تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے کی وجہ تتلیوں کو عالمی حدت کے خطرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ تتلیوں کی مختلف اقسام کے گرمی سے نمٹنے کے مختلف انداز ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer