آئی جی پنجاب کے تبادلے کی اصل وجہ کیا بنی؟ 24 نیوز نے پتا لگا لیا


لاہور(24نیوز) تازہ تازہ لگائے جانےوالےآئی جی پنجاب محمدطاہرسےحکومت کاایک ماہ میں ہی جی بھرگیا۔تبادلےکےاحکامات جاری ہوئے توالیکشن کمیشن نےایکشن لے لیا اورنوٹی فکیشن ہی معطل کرڈالا۔اپوزیشن بھی پوائنٹ اسکورنگ کرنےسےباز نہ آئی۔لیکن آئی جی پنجاب محمدطاہرکےتبادلےکی اصل وجہ کیابنی، ٹوینٹی فورنیوزنےپتاچلالیا۔
 صرف ایک ماہ کےبعدہی حکومت اپنےلگائے گئے بندوں سے اکتاگئی، آئی جی پنجاب محمدطاہرکےتبادلےکےاحکامات جاری ہوئے توالیکشن کمیشن نےنوٹی فکیشن معطل کردیا۔اورسیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سےدو روز میں جواب طلب کرلیا۔حکومت پرتنقیدکی تاک میں بیٹھی اپوزیشن کوتوموقع مل گیا۔مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نےفوراکہہ دیاکہ محمدطاہرکوپولیس کےتشددکےمعاملے پرصوبائی وزیرمحمودالرشیدکی بات نہ ماننےپرسزادی گئی۔
دوسری جانب صوبائی وزیرمحمودالرشیدبھی اس معاملے پراپنی صفائی دیتےنظرآئےاور کہاکہ میاں محمود الرشیدنےکہامریم اورنگزیب جھوٹ بول رہی ہیں۔اپوزیشن اورحکومت کی پوائنٹ اسکورنگ ایک طرف لیکن ٹوینٹی فورنیوزنےآئی جی تبادلےکی اندرونی اوراصل کہانی کاپتہ چلالیا۔
چیئرمین پولیس ریفارمز کمیشن ناصردرانی اور آئی جی محمدطاہر میں اختیارات کی جنگ تبادلےکی وجہ بنی۔ ذرائع کےمطابق ناصر درانی کی من پسند پوسٹنگ ٹرانسفرکی خواہش میں آئی جی محمدطاہررکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اس کےعلاوہ سانحہ ماڈل ٹاؤن والےپولیس افسروں کی پوسٹنگزپربھی ناصردرانی اورحکومت آئی جی سے ناخوش تھے۔
ادھروفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری کاکہناہے حکومت کےمقرر کردہ ٹاسک پورے نہ کرنے پرآئی جی پنجاب کوہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔طاہر خان کوکچھ معاملات پر عمل کا کہا گیا تھا جس میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہابیوروکریسی کو پیغام دے دیا ہے کہ جو کام کرے گا وہ رہے گا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔